Posts

Article-176 republised

 نوٹ:-یہ اھم آڑٹیکل Article-176 میں نے  اسلام آباد ھائی کوڑٹ کے ڈبل بینچ کے 2 نومبر 2021 کے ICT-82/2020 کے فیصلے  پر تبصرہ کرتے بوئیے لکھا تھا۔ جسکے PTET اور PTCL یہ  Compliance دیتے بوئیے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررھے تھے کے T&T  ڈیپارٹمنٹ ،جو گورنمنٹ کا ڈیپارٹمنٹ کا تھا اس میں میں کام کرنے والے تمام ملازمین جو گریڈ 1 سے لیکر گریڈ 16 تک میں کام کرتے تھے وہ تمام ملازمین سول سرونٹ کی کیٹیگری میں نھیں آتے تھے اور وہ بھی نھیں آتے تھے جو بعد میں  گریڈ 17  یا اس سے اوپر گریڈ میں پروموٹ ھوکر ریٹائیڑڈ بوئیے تھے۔اسلئیے وہ PTCL میں ٹرانسفڑڈ ھونے کے بعد ، Govt Civil Servant ACT 1973 کے تحت گورنمنٹ کے  اپنے سول سرونٹ کو ادا کرنے والے کسی  بھی تنخواہ اور پنشنری اور دیگر فوائد کے حقدار نھیں ھیں صرف وہ حقدار ھیں جو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے Civil Servants (Appointment, Promotion and Transfer) Rules, 1973 کے تحت T&T گریڈ 17 میں بھرتی بوئیے تھے۔ یہ بلکل غلط ھےکیونکے  یہ  ، Govt Civil Servant ACT1973 تو  1973 میی نافذ ھوا تھ...

Article-239[ChatGPT clerification]

 ChatGPT Reply چاٹ جی پی ٹی جواب دیں انگلش میں سپریم کوڑٹ آف پاکستان نے 10 جولائی 2025  کے فیصلے جو چیف  جسٹس یحی آفریدی صاحب نے لکھا اسکا پیرا  نمبر 20 اور 21 پیش ھے آپ ان دونوں پیراز کا اردو ترجمعانھوں نے ورک مین اور سول سرونٹ کاایشو واضح کیا ھے کے ورک مین کون ھوتے ھیں اور سول سرونٹ کون اور اس پر تبصرہ کرکے یہ واضح کریں  کے اس فیصلے کے نتیجے میں یہ بات واضح ھو جاتی ھے کے ٹی اینڈ ٹی میں کام کرنے والے سارے ملازمین سول سرونٹ کی کیٹیگری میں آتے ھیں کیونکے انکی تنخواہ اور پنشن گورمٹ کے قوانین کے تحت protected ھوتی  ھے جبکے ورکمین کی نھیں ھوتی ھے ۔جبکے پی ٹی سی ایل والے یہ کہتے ھیں کے جو لوگ سول سرونٹ کا امتحان  FPSC کرکے ٹی اینڈ   ٹی میں بھرتی ھوئیے وھی سول سروننٹ ھوتے ھیں  ۔اسکے متعلق تفصیل کے ساتھ واضح کریں  Perfect. Below is a formal, court-ready Legal English version of Paragraphs 20 & 21 with a reasoned legal analysis, drafted in a style suitable for: • Supreme Court Review Petition (CMA / Civil Review) • High Court remande...

Article-238 [Regarding Analysis , Suggestion ,Compliance on SC order of Dated 10th July 2025 by AI Deep Seek]

My question to AI DeepSeek  سپریم کوڑٹ کے 10 جولائی 2025   اس فیصلے کے تحت جسمیں عدالت نے پی ٹی ای ٹی کی طرف سے ھائکوڑٹ کے پی ٹی سی ایل پٹیشنروں کے حق میں آئیے فیصلوں کے  خلاف دائیر کردہ تمام اپیلیں مسترد کردیں اور ھائی کوڑٹ کا فیصلہ بحال کردیا اور اور نوے  دن کے کے اندر  گورمنٹ کی پنشن ان سبکو دینے کا حکم دیا جو ٹی اینڈ ٹی سی 1991 میں کارپوریشن میں ٹرانسفڑڈ ھوتے وقت سول سرونٹ تھے ۔ اسطرح جو دو CPLAs یعنی CPLA 6023 & 6025/2021 مسترد کردیں مگر انھوں نے اس پر جزوی اور  عمل کیا اور صرف اور صرف 4 ریسپونڈنٹس کو ھی گورمنٹ والی پنشن دینا نومبر 2025 سے دینا شروع کردی  جنکی ٹی اینڈ ٹی میں initial appointment سول سرونٹ گزیٹڈ آفیسر کلاس ون گریڈ 17 میں ھوئی تھی اور باقی 16 ریسپونڈنٹس کو نھیں دی کیونکے بقول انکے وہ سول سرونٹ نھیں بھرتی ھوئیے تھے۔آپ انگلش میں اس پر اپنا نکتہ نظر ہیش کریں اور  یہ بتائیں انگلش میں باقی یہ 16 ریسپونڈنٹس عدالت کے حکم کے مطابق عمل نہ کرنے پر انکے خلاف توھین عدالت کا کیس کرسکتے ھیں او عدالت کے زریعے اس پر عمل کراسکتے ھیں یا نھیں۔...

Article-236 [Urdu Translation of SCP order of 10th July 2025 by Google Jemnie of CJ Judgement

] یہ ایک نہایت اہم اور پیچیدہ قانونی دستاویز ہے جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے کا حصہ ہے، جس میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس عائشہ اے ملک کے لکھے گئے مرکزی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی اختلافی رائے (Dissenting View) پیش کی ہے۔ 👨‍⚖️ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی اختلافی رائے کا خلاصہ (اردو ترجمہ) ابتدائیہ (صفحہ 1) چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کہتے ہیں کہ انہیں جسٹس عائشہ اے ملک کے لکھے گئے فیصلے کو پڑھنے کا موقع ملا۔ وہ اس بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں کہ ٹیلی فون اور ٹیلی گراف (T&T) ڈیپارٹمنٹ سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (PTC) اور پھر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) میں منتقل ہونے والے ملازمین نے سول سرونٹ کی حیثیت کھو دی، جیسا کہ پانچ رکنی بنچ کے ایک پچھلے فیصلے (مسعود احمد بھٹی بنام PTCL وغیرہ) میں طے کیا گیا تھا۔ اس پر انحصار کرتے ہوئے، یہ نتیجہ نکالا گیا تھا کہ یہ ملازمین سول سرونٹس کو حاصل پنشن کے فوائد کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ پیراگراف 2 "میں ان کے (جسٹس عائشہ اے ملک) کے نتیجے سے مکمل طور پر متفق نہیں ہوں۔ اگرچہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ ملازم...