Article-241[ Regarding clarification/ explanation by AI ChatGPT on Civil Servant issue in T&T Dept]

 


Article-241

نوٹ:- معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے مورخہ 10 جولائی 2025، سول اپیل نمبر 1509 آف 2021 اور متعلقہ مقدمات میں واضح طور پر طے کر دیا تھا کے ٹی اینڈ ٹی میں کام کرنے والے تمام ملازمین سول سرونٹ کے زمرے میں آتے تھے تو اسنے کیونکے کچھ کیس کو ھائی کوڑٹ میں یہ میں یہ ثابت کرنے کے لئےبھیج دیا کے وہ سب سول سرونٹ  تھے یا ھیں جبکہ وہ خود یہ ۔10 جولائی 2025 کو، سول اپیل نمبر 1509 آف 2021 میں قرار دے چکی تھی کے یہ سب سول سرونٹ تھے۔اسکی وضاحت میں نے مصنوعی زھانت AI ChatGPT  سے لی جو آپ لوگوں کی معلومات کے لئے زیر پیش ھے غور سے اور سمجھ کر پڑھیں۔شکریہ

(طارق)

Date 10-02-202



وضاحت

سابقہ ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون (T&T) ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ پاکستان کے تمام ملازمین سول سرونٹ تھے یا نہیں—اس سوال کو معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے مورخہ 10 جولائی 2025، سول اپیل نمبر 1509 آف 2021 اور متعلقہ مقدمات میں واضح طور پر طے کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ COURT’S JUDGMENT DATED 10.07.2025 IN C.A. NO. 1509 OF 2021 ETC. AND PAYMENT میں اٹھائے گئے نکات کا احاطہ کرتا ہے اور ساتھ ہی مختلف شعبوں میں کام کرنے والے سول سرونٹس اور ورک مین (Workmen) کے درمیان واضح فرق بھی بیان کرتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے بعض مقدمات کو دوبارہ ہائی کورٹس کو واپس (Remand) کیا تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ آیا متعلقہ ملازمین واقعی سول سرونٹ تھے اور کیا وہ تمام سرکاری پنشنری فوائد کے حق دار ہیں۔

تاہم، چونکہ سپریم کورٹ خود اپنے 10 جولائی 2025 کے فیصلے میں یہ قرار دے چکی تھی کہ یہ ملازمین سول سرونٹ تھے، اس لیے یہ سوال بھی سامنے آیا کہ ایسی تصدیق کے لیے مزید کس نوعیت کا ثبوت درکار ہو سکتا ہے، اور عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آخر کون سا ثبوت پیش کیا جانا چاہیے۔

سابقہ T&T ملازمین کی حیثیت (Civil Servant Status)

سابقہ ٹی اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی حیثیت سے متعلق معاملہ، سول سرونٹس ایکٹ 1973 (ایکٹ نمبر LXXI آف 1973) کے تحت، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے 10 جولائی 2025 کے فیصلے میں بڑی حد تک واضح کر دیا ہے۔

عدالت کے اس فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے سول سرونٹس اور ورک مین میں کیا بنیادی فرق ہے۔

جن مقدمات کو ہائی کورٹس کو واپس بھیجا گیا، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ سابقہ ٹی اینڈ ٹی ملازمین کی قانونی حیثیت دوبارہ طے کی جائے، بلکہ صرف یہ تھا کہ ہر کیس میں انفرادی سروس ریکارڈ کی تصدیق کی جا سکے۔

سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ

معزز سپریم کورٹ نے دو ٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ:

سابقہ T&T ڈیپارٹمنٹ کے وہ ملازمین جو وفاقی حکومت کے تحت سول اسامیوں (Civil Posts) پر مقرر کیے گئے تھے، وہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے مفہوم کے تحت سول سرونٹ تھے، الا یہ کہ کسی قانون کے تحت انہیں واضح طور پر اس زمرے سے خارج کیا گیا ہو۔

عدالت نے یہ بھی واضح فرق بیان کیا کہ:

سول سرونٹس وہ ہوتے ہیں جو قانونی/اسٹیٹوٹری سروس رولز کے تحت سول اسامیوں پر مقرر ہوں۔

جبکہ ورک مین وہ ہوتے ہیں جو لیبر قوانین کے تحت صنعتی، غیر سول یا خالصتاً کنٹریکٹ نوعیت کے کام انجام دیتے ہوں۔

محض یہ حقیقت کہ کوئی ملازم تکنیکی، آپریشنل یا دستی کام انجام دے رہا ہے، اسے خود بخود ورک مین نہیں بنا دیتی، جب تک کہ اس کی تقرری، سروس کنڈیشنز اور حاکم قانون اسے لیبر قوانین کے تحت نہ لے آئیں۔

سابقہ T&T ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین لیبر قوانین کے تحت نہیں بلکہ سرکاری سروس رولز کے تحت کام کر رہے تھے۔

ہائی کورٹ کو واپس بھیجے گئے مقدمات کا مقصد


ہائی کورٹس کو واپس بھیجے گئے مقدمات کا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ سابقہ T&T ملازمین کی مجموعی قانونی حیثیت پر دوبارہ غور کیا جائے، بلکہ صرف یہ دیکھا جانا تھا کہ آیا متعلقہ ملازم:

کسی منظور شدہ سول اسامی پر مقرر ہوا تھا؛

اس پر سول سرونٹس کے اسٹیٹوٹری سروس رولز لاگو تھے؛

اور وہ کارپوریٹائزیشن (PTCL) سے پہلے وفاقی حکومت کے ماتحت خدمات انجام دے چکا تھا۔

اس تصدیق کے لیے درج ذیل دستاویزی شواہد کو کافی اور موزوں قرار دیا گیا:

حکومتِ پاکستان کے تحت سول اسامی پر تقرری کا لیٹر؛

سرکاری قواعد کے مطابق مرتب کردہ سروس بک یا سروس ریکارڈ؛

سول سرونٹس پر لاگو پے اسکیل نوٹیفکیشنز؛

سرکاری پنشن قواعد کے تحت کٹوتیوں اور فوائد کا ریکارڈ؛

مجاز سرکاری اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ٹرانسفر، پروموشن یا پوسٹنگ آرڈرز؛

کوئی بھی سرکاری ریکارڈ جو سول سرونٹس ایکٹ یا متعلقہ قواعد کے اطلاق کو ظاہر کرے۔


سپریم کورٹ کے فیصلے کا اثر (10 جولائی 2025)

چونکہ سپریم کورٹ پہلے ہی سابقہ T&T ملازمین کی سول سرونٹ حیثیت کے قانونی سوال کو حتمی طور پر طے کر چکی ہے، اس لیے ریمانڈ کے بعد ہائی کورٹس کا کردار محض انتظامی اور حقائق کی تصدیق تک محدود ہے۔

ہائی کورٹس کو اس مرحلے پر کسی نئی قانونی تشریح یا ایسے کسی فیصلے کی اجازت نہیں جو سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوں سے متصادم ہو۔


پنشنری فوائد کا حق

جب انفرادی سروس ریکارڈ کی تصدیق مکمل ہو جائے، تو یہ ملازمین سپریم کورٹ کے فیصلے اور مسلمہ قانون کے مطابق تمام سرکاری پنشنری فوائد کے مکمل حق دار ہوں گے۔


نتیجہ

سپریم کورٹ کا 10 جولائی 2025 کا فیصلہ سابقہ T&T ملازمین کی سول سرونٹ حیثیت کو بلا ابہام واضح کر دیتا ہے۔ہائی کورٹس کی جانب سے تصدیق کی شرط صرف انفرادی ریکارڈ کی جانچ تک محدود ہے اور اس سے سپریم کورٹ کے طے شدہ قانونی مؤقف میں نہ کوئی تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی اسے کمزور کیا جا سکتا ہے۔

ChatGPT

Comments

Popular posts from this blog

Article-173 Part-2 [Draft for non VSS-2008 optees PTCL retired employees]

Article-170[ Regarding Article -137 Part -1 in English]

.....آہ ماں۔