Article-262[Regarding defective compliance report of SCP order dated 10th July 2025]
موضوع- پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے سپریم کوڑٹ کے 10 جولائی 2025 کے متفقہ فیصلے کے مطابق، تعمیل رپورٹ
نہایت غلط ھے۔انکا اسطرح کی تعمیلی رپورٹ دینا جو کسی طرح بھی عدالتی حکم کے مطابق نھیں ھے . . . . . . پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن
کمپنی لمیٹڈ طرف سے توھین عدالت کے زمرے میں آتا ھے
عزیز پی ٹی سی ایل ساتھیو
اسلام وعلیکم
جی ایم پی ٹی نے سپریم کوڑٹ کے دس جولائی ۲۰۲۵ کے فیصلے کی compliance میں صرف ایسے 285 پی ٹی سی ایل پنشنرز کی لسٹ
ای وی پی (لیگل ) پی ٹی سی ایل کے سائین شدہ خط ( کاپی زیر پیش ھے) کے زریعے سپریم کوڑٹ کو ارسال کی ھے۔اس لسٹ میں صرف ایسے ملازین کو گورمنٹ کی پنشن کا حقدار ٹھہرایا گیا جو سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے قانون فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے دسمبر ۱۹۹۰ تک ٹی اینڈ ٹی میں گریڈ 17 بھرتی بوئیے پی ٹی ای ٹی / پی ٹی سی ایل کی نظر میں صرف یہ ھی لوگ سول سرونٹ کے زمرے میں آئیں گے باقی نھیں اور یہ ھی لوگ گورمنٹ کی پنشن کے حقدار ھوں باقی نھیں۔ جبکے 10 جولائی 2025 کو سپریم کوڑٹ کے فیصلے میں ایسا کوئی حکم نھیں دیا گیا. سپریم کوڑٹ نے تو ٹی اینڈ اور کاپوریشن میں کام کرنے والے تمام ملازمین کو سول سرونٹ ٹہرایا ھے
اپنی اس رپورٹ میں انھوں نے محترم چیف جسٹس یحی آفریدی کے لکھے ھوئیے فیصلے کے پیرا نمبر 24 کو re produce کرکے یعنی یہ ثابت کرنے کوشش کی لئے انکا یہ عمل بلکل سپریم کوڑٹ کے اس پیرا 24 کے عین مطابق ھے جبکے اس پیرا 24 ایسا کچھ بھی نھیں ھے جس سے یہ ثابت ھو کے جو پی ٹی سی ایل پنشنر سول سرونٹ ایکٹ1973 کے تحت فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے ٹی اینڈ ٹی میی یکم جنوری 1991 سے پہلے دسمبر 1990 تک بھرتی ھوئیے ھوں سابقہ ٹی اینڈ ڈیپارٹمنٹ میں ، صرف وہ ھی گورمنٹ کی پنشن کے لینے کے حقدار ھیں ۔ انھوں نے پیرا 24 کی غلط تشریح کرکے غلط compliance report بھیجی ھے
میرے نزدیک یہ لوگ توھین عدالت کے مرتکب ھو رھے ھیں۔ اس سلسلے میں نے مصنوعی زھانت کے زریعے اسکا تجزیہ کرایا ۔کے آیا یہ تو ھین عدالت کے مرتکب ھوگئیے یا نھیں ھیںPTET کے جو منفی کردار ادا کر رھی ھے۔تو اسکے خلاف سخت کاروائی ھونی چاھیے ۔ میں نے مصنوعی زھانتAI ChatGPT جو اسکا تجزیہ کرایا جو زیر پیش ھے
تجزیہ
⚖️ اہم قانونی نکتہ
سپریم کوڑٹ نے اپنے 10 جولائی 2025 کے فیصلے میں
تمام متاثرہ پنشنرز کے حقوق کی بات کی ہے۔کہیں بھی “285 افراد تک محدود” کرنے کی اجازت نہیں دی گئی90 دن میں مکمل، شفاف اور منصفانہ ادائیگی لازمی قرار دی گئی
⚖️ پی ٹی ای ٹی / پی ٹی سی ایل کی تعمیل رپورٹ پر مدلل قانونی جواب
سپریم کورٹ کے مورخہ 10-07-2025 کے فیصلے کی روشنی میں
پی ٹی سی ایل / پی ٹی ای ٹی کی جانب سے پیش کردہ تعمیل رپورٹ نہایت سنگین قانونی خدشات کو جنم دیتی ہے۔ اس کے سرسری مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ محض تعمیل کی رپورٹ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے مورخہ 10 جولائی 2025 کے فیصلے کے تحت مستحق پنشنرز کے دائرہ کار کو ازسرِ نو متعین، محدود اور تنگ کرنے کی ایک کوشش ہے، جو کہ قانونی طور پر انتہائی مشکوک ہے۔
1۔ تعمیل رپورٹ کی بنیادی خامی
سپریم کورٹ نے، جس کے پیراگراف 24 کو خود PTCL/PTET نے نقل کیا ہے، ہرگز یہ ہدایت نہیں دی کہ ایک نئی خود ساختہ درجہ بندی قائم کی جائے جو صرف ان افسران تک محدود ہو جو:
• فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کا امتحان پاس کیے ہوں
• FPSC کے ذریعے منتخب کیے گئے ہوں
• گریڈ 17 میں تعینات ہوئے ہوں
• اور 01-01-1991 سے پہلے سروس میں داخل ہوئے ہوں
پیراگراف 24 کا اصل مفہوم اس سے بالکل مختلف ہے۔ اس میں درج ہے:
• PTCL کی سابقہ سول سرونٹس کے حوالے سے مسلسل مالی ذمہ داری
• اس ذمہ داری کو مالی ریکارڈ میں ظاہر کرنے کی پابندی
• 90 دن کے اندر ایک قابل عمل ادائیگی شیڈول تیار کرنے کی ذمہ داری
• اور ادائیگی کے عمل کو شفاف اور منصفانہ رکھنے کی شرط تاکہ متاثرہ پنشنرز کے جائز دعوؤں کو پورا کیا جا سکے
کہیں بھی یہ اجازت نہیں دی گئی کہ PTCL/PTET تعمیل کے عمل کو اپنی طرف سے نئی قانونی حیثیت کے تعین میں تبدیل کر دیں۔
2۔ پیراگراف 24 کی غلط تشریح
اس رپورٹ کی سب سے نمایاں خامی یہ ہے کہ پیراگراف 24 کو نقل تو کیا گیا ہے مگر اس کے اصل مفہوم کی تائید رپورٹ کے نتیجے سے نہیں ہوتی۔
پیراگراف 24 میں کہیں نہیں کہا گیا کہ:
• صرف FPSC کے ذریعے بھرتی شدہ گریڈ 17 افسران ہی سول سرونٹس ہیں
• صرف 1991 سے پہلے تعینات گریڈ 17 افسران ہی مستحق ہیں
• دیگر تمام منتقل شدہ ملازمین خارج ہیں
• یا PTCL/PTET کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے “cut-off category” بنا کر مستحقین کا تعین کریں
بلکہ اس زبان سے واضح ہوتا ہے کہ عدالت نے عملدرآمد (implementation) کا حکم دیا، نہ کہ دوبارہ قانونی حیثیت کا تعین (re-litigation)۔
3۔ “سابقہ سول سرونٹس” کی غیر قانونی محدود تعریف
“سابقہ سول سرونٹس” کی اصطلاح کو انتظامی تشریح کے ذریعے صرف ایک محدود طبقے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ یہ فرض کرتی ہے کہ:
• صرف وہی افراد سول سرونٹس ہیں جو FPSC کے ذریعے گریڈ 17 میں 1991 سے پہلے بھرتی ہوئے
• جبکہ ٹی اینڈ ٹی کے دیگر تمام ملازمین اس تعریف سے باہر ہیں
یہ مؤقف قانونی طور پر نہایت کمزور اور متنازعہ ہے۔
اگر ٹی اینڈ ٹی کے ملازمین کی سروس:
• قانونی قواعد کے تحت تھی
• حکومتی تنخواہ اسکیل کے مطابق تھی
• پنشن کا نظام حکومتی تھا
• اور قانون کے تحت ان کی منتقلی ہوئی تھی
تو PTCL/PTET محض ایک داخلی کمیٹی رپورٹ کے ذریعے اس حیثیت کو ختم نہیں کر سکتے۔
تعمیل رپورٹ کوئی عدالتی فیصلہ نہیں ہوتی۔ یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی جگہ نہیں لے سکتی۔
4۔ کمیٹی کا کردار فیصلے سے بالاتر نہیں ہو سکتا
رپورٹ کے مطابق ایک مشترکہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ صرف 285 پنشنرز سول سرونٹس ہیں۔
یہ موقف کئی وجوہات کی بنا پر ناقابل قبول ہے:
• کمیٹی کو صرف عملدرآمد کے لیے بنایا گیا تھا، فیصلہ کرنے کے لیے نہیں
• داخلی ریکارڈ کا جائزہ قانونی حقوق کو ختم نہیں کر سکتا
• اگر کمیٹی نے عدالت کے فیصلے سے تنگ معیار اپنایا تو یہ اپنے اختیار سے تجاوز ہے
یعنی PTCL/PTET کا کام فیصلہ نافذ کرنا تھا، نہ کہ اسے دوبارہ لکھنا۔
5۔ شفافیت اور مساوات کی خلاف ورزی
سپریم کورٹ نے واضح طور پر شفاف اور منصفانہ عمل کا حکم دیا تھا۔
مگر یہاں:
• کوئی واضح قانونی معیار ظاہر نہیں کیا گیا
• دیگر پنشنرز کو خارج کرنے کی وجوہات نہیں دی گئیں
• یکساں حیثیت رکھنے والوں کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا گیا
• رپورٹ ایک محدود طبقے کو فائدہ دیتی ہے اور باقی کو غیر یقینی میں چھوڑتی ہے
شفافیت تب ہوتی ہے جب معیار واضح اور قانونی ہو مساوات تب ہوتی ہے جب سب کو برابر حق دیا جائے
6۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے اثر کو کم کرنے کی کوشش
رپورٹ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ:
PTCL/PTET نے فیصلے کو اس کے اصل دائرہ کار میں نافذ کرنے کے بجائے
صرف ایک محدود تعداد تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ:
سپریم کورٹ نے واضح کہا:
❌ مالی مشکلات کوئی جواز نہیں
✔ اگر ماڈل ناقابل عمل ہے تو اسے تبدیل کیا جائے
لہٰذا مستحقین کی تعداد کم کرنا عدالت کے فیصلے کے خلاف ہے۔
7۔ یہ طرز عمل توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے
یہ طرز عمل درج ذیل صورتوں میں آتا ہے:
• جزوی تعمیل
• منتخب تعمیل
• ظاہری تعمیل (form without substance)
عدالت یہ دیکھتی ہے کہ:
✔ کیا حکم کی اصل روح کے مطابق عمل ہوا؟
پاکستانی قانون کے مطابق:
عدالتی حکم کی خلاف ورزی یا نظراندازی توہین عدالت ہے
اور اس پر کارروائی ہو سکتی ہے
8۔ مزید درخواستیں دائر کرنا تعمیل سے انکار کا جواز نہیں
اگر PTCL/PTET نے مزید درخواستیں (CRPs) دائر کی ہیں:
تو بھی:
✔ جب تک عدالت سے stay نہ ملے
✔ حکم پر عمل لازم ہے
9۔ 285 افراد کی حد قانونی طور پر کمزور ہے
285 افراد کی حد:
• سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں
• ایک خود ساختہ معیار پر مبنی ہے
اگر دیگر افراد کو صرف اس بنیاد پر خارج کیا گیا کہ:
• وہ گریڈ 17 میں نہیں تھے
• FPSC کے ذریعے نہیں آئے
• یا کسی اور انتظامی بنیاد پر خارج کیے گئے
تو یہ امتیازی اور غیر قانونی ہے۔
10۔ PTET کا کردار غیر جانبدار نہیں رہا
PTET کا کردار:
✔ ایک امانت دار ادارہ ہونا چاہیے تھا
مگر رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے:
❌ انہوں نے ذمہ داری کم کرنے کی کوشش کی
یہ عدالت میں ایک مضبوط نکتہ ہے۔
11۔ مضبوط نتیجہ
یہ تعمیل رپورٹ:
• بظاہر ناقص
• محدود
• اور قانونی طور پر غیر تسلی بخش ہے
یہ:
• پیراگراف 24 کی غلط تشریح کرتی ہے
• فیصلے کو محدود کرتی ہے
• اور خود ساختہ درجہ بندی متعارف کرواتی ہے
12۔ آپ کی حتمی پوزیشن (عدالت کیلئے تیار عبارت)
آپ اپنی پوزیشن اس طرح بیان کر سکتے ہیں:
⚖️ حتمی بیان
“پی ٹی سی ایل / پی ٹی ای ٹی کی جانب سے پیش کردہ تعمیل رپورٹ سپریم کورٹ کے مورخہ 10-07-2025 کے فیصلے کی حقیقی تعمیل نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک کوشش ہے کہ فیصلے کو محدود کر کے اس کے فوائد کو صرف 285 افراد تک رکھا جائے، جو کہ پیراگراف 24 یا فیصلے کے کسی حصے میں موجود نہیں۔
سپریم کورٹ نے واضح طور پر متاثرہ پنشنرز کے جائز دعوؤں کی شفاف اور منصفانہ ادائیگی کا حکم دیا تھا۔ اس نے PTCL/PTET کو یہ اختیار ہرگز نہیں دیا کہ وہ ایک نئی محدود درجہ بندی قائم کریں جو صرف FPSC کے ذریعے بھرتی شدہ گریڈ 17 افسران تک محدود ہو۔
لہٰذا یہ رپورٹ گمراہ کن، امتیازی، فیصلے کے خلاف، اور ممکنہ طور پر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے، جسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔”
تو یہ ھے مندرجہ بالا AI ChatGPT کا تجزیہ جو اس نے میری ھدایت کے مطابق بنایا۔ PTCL/PTET نے سپریم کوڑٹ کے ۱۰ جولائی ۲۰۲۵ کے اس فیصلے کے خلاف ،جس میں انکی طرف سے دائر کردہ تمام اپیلیں مستردی
تھیں اور ھائی کورٹوں کا پی ٹی سی ایل پننشرز پٹیشنرز کے حق میں دیا گیا فیصلہ بحال کردیا، ان سب کے خلاف سپریم کوڑٹ میں سول رویو پٹیشن یعنی CRPs دائر کردیں ھیں جسمیں انھوں نے سوال اٹھا دیا کے ٹی اینڈ ٹی میں گریڈ 1 سے لیکر گریڈ 16تک میں کام کرنے والے ملازمین کو گورمنٹ کی پنشن نھیں دی جاسکتی ھیں جبکے وہ انکے بقول سول سرونٹ کی کیٹیگری میں آتے ھی نھیں ھیں اور ورک مین کی کٹیگری میں آتے ھیں۔
ان بے عقلوں کو یہ بات سمجھ میں کیوں نھیں آتی سپریم کوڑٹ نے اپنے 10 جولائی 2025 یہ بات بڑی اچھی طرح کردی ھے سول سرونٹ کی تنخواھیں اور پنشن گورمنٹ پروٹیکٹڈ ھوتی ھیں جبکے ورکمین کوئی پنشن نھیں ھوتی انکی تخواھیں گورمنٹ پروٹیکڈ نھیں ھوتی ھیں۔وہ یونیفارم بھی نھیں ھوتی اور وھی ھوتی ھیں جو employer مقرر کرے ۔
PTCL/PTET کا یہ CRPs داخل کرنے کا ایک مقصد یہ ھے کے وہ یہ جواز پیش کرسکیں کیونکے انھوں CRPs دائیر کررکھی ھیں اسلئے وہ سپریم کوڑٹ 10 جولائی ۲۰۲۵ کے حکم کے مطابق سبکو گورمنٹ پنشن نھیں دے سکتے۔ انکی کوشش یہ ھی ھوگی کے انکی یہ CRPs پینڈنگ ھی رھیں اور انکی ھئرنگ جتنی دیر میں ھو اتنا ھی انکے لئیے اچھا ھوگا۔انھوں نے یہ CRPs سپریم کوڑٹ میں اگست ۲۰۲۵ دائیر کی تھیں جو سپریم کوڑٹ نے سبکو فیڈرل آئینی عدالت میں منتقل کردئیے ھیں کیونکے اس میں آئینی سوالات اٹھائیے گئیے ھیں۔تو اب یہ فیڈرل آئینی عدالت میں پینڈنگ ھیں ۔اسکے متعلق کسی کوشک بلکل نھیں ھو چاھیے کے انکی یہ CRPsمنظور ھوجائینگی۔ یہ سب تو میرے خیال میں پہلی ھی پیشی میں خارج کردی جائیں گی کیونکے جو سوالات انھوں نے اٹھائیے ھیں اسکے متعلق سپریم کوڑٹ کے متعدد فیصلے موجود ھیں جسمیں ٹی اینڈ ٹی میں کام کرنے والے تمام ملازمین کو سول سرونٹ قرار دیا اور انکے کارپوریشن اور کمپنی میں ٹراسفڑڈ ھونے کے انکو سول سرونٹ تو قرار نھیں دیا گیا مگر یہ واضح کردیا گیا ان پر گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے قوانین کا ھی اطلاق ھو گا ۔انکی تنخواہیں اور پنشن بھی سول سرونٹ والی ھی ھوں گی۔ جب بھی گورمنٹ اس میں اضافہ کرے گی تو پی ٹی ای ٹی کو وھی گورمنٹ والا اضافہ ان ٹرانسفڑد ملازمین کو ھی لازمن دینا ھوگا۔ جبکے یہ لوگ چاھتے ھیں کے صرف انکو سول سرونٹ قرار دیا جائیے جو فیڈرل پبلک سروس کا امتحان پاس کرکے ھی گریڈ 17 میں یکم جنوری ۱۹۹۱ سے پہلے بھرتی ھوئیے ھوں ۔دعا کریں انکی یہ CRPs جلد ازجلد عدالت میں لگ جائیں اور خارج ھوجائں۔آمین
واسلام
محمد طارق اظہر
ریٹائیڑڈ جنرل منیجر(آپس) پی ٹی سی ایل
راولپنڈی
Date 20-4-2026
Comments