Posts

جاتے ھیں وھی جنکے آتے ھیں بلاوے۔ میری اچانک حج پر جانے کی روداد.(پاڑٹ-۲)

 (پاڑٹ -2) عنوان :-جاتے ھیں وھی جن کے بلاوے آتے ھیں. . . . . حج کرنے اور دوران حج پیش ھونے والے واقعات کی روداد ھماری ائیر فرانس کی فلائٹ جدہ کی جانب محو پرواز تھی ۔ ھم سب خاموش بیٹھے  درود شریف کا  اور اللھم لبیک کا ورد کررھے تھے ۔ فلائیٹ کی روانگی کے ساڑھے تین گھنٹے کے بعد ، جب جدہ پہنچنے میں ڈھائی گھنٹے کا وقت رہ گیا تھا۔ ھم سب چاروں نے باری باری واش روم  جاکر پہلے وضو کیا اور احرام  باندھ  لئیے اور دو  نفل نماز پڑھکر عمرے کی نیت کرلی [چونکے ھم لوگوں نے حج تمتع کرنا تھا جسمیں پہلے عمرہ کیا جاتا ھے اور  اسمیں حلق (سر مونڈوانہ) کرنے کے بعد جب عمرہ مکمل ھوجاتا ھے تو احرام کھول دیا جاتا ھے۔ اسکے بعد 8 زولحجہ   دوبارا احرام باندھا جاتا ھے اور پھر   صرف حج کی نیت کی جاتی ھے اور اسکا احرام 10 ذولحجہ کو  ، بترتیب رمی  ( بڑے شیطان کو سات کنکریاں مار کر ) اسکے بعد قربانی  اور اسکے بعد حلق کرنے ، بعد کھول دیا جاتا ھے ] ۔جھاز  میں  ھم نے کرسی پر بیٹھکر دونفل پڑھے اور سجدے کے لئیے کھانے کی میز کو کھول کر استعمال کیا ۔ جب ج...

جاتے ھیں وھی جنکے آتے ھیں بلاوے۔ میری اچانک حج پر جانے کی روداد (پاڑٹ ۱)

  ( پاڑٹ -1) نوٹ: مئی ۱۹۹۵ میں مجھ کو اچانک حج کرنے کی اللہ تعالی نے سعادت فرمائی.جو میرے وھم ھمان میں بھی نہیں  تھی کے مجھے  ایسا موقع اچانک حج  کرنے کا ملے گا اس لئیے میں اپنے رب کریم کا جتنا شکر ں وہ بیحد کم ھے ۔ کسطرح مجھے حج پر جانے کی اجازت ملی اور کسطح حج پر جانے سے پہلے کیا کیا مراحل آئیے اور  حج کے دوران کیا واقعات پیش آئیے کسطرح حج کیاگیا اور کسطرح میری عرفات میں مانگی ھوئی اچانک دعا کا اثر اللہ نے مجھے فورن ھی دکھادیا۔    ان سب کی    روداد لے کر میں  آپ لوگوں کی خدمت میں  حاضر ھوا ھوں  ۔ اسکے   دو پاڑٹس میں ھے ۔ گزارش  آپ لوگ ان دونوں پاڑٹس کو  ضرور   مکمل مفصل پڑھئیے گا آپ لوگ ضرور محظوظ ھوں گے۔    اپنی رائیے سے  ضرور نوازئیے گا۔ شکریہ (طارق) عنوان :-جاتے ھیں وھی جن کے بلاوے آتے ھیں. . . . . حج پر جانے کی روداد۔ میں ان دنوں ڈائریکٹر فون حیدرآباد کی پوسٹ پر یکم مئی ۱۹۹۴ پر گریڈ ۱۹  پر پروموشن کے بعد تعنیات تھا ، جب مجھے ۱۵ فروری ۱۹۹۵ کی شام  پی ٹی سی   ھیڈ کواٹر اسلام...

A great tribute to my beloved friend Hassan Irfan on his first anniversary on 24th June 2023

Image
آہ ! میرے پیارے دوست حسن عرفان!!! دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائیے گا سینے میں داغ ھے کہ مٹایا نہ جائیے گا آج 24 جون 2023 ھے ۔اسی دن ٹھیک ایک سال پہلے  یعنی 24 جون 2022 میری زندگی کے سب سے پیارے بچپن کے  دوست   حسن عرفان  کا انتقال ھوگیا۔انا لله وانا اليه راجعون ۔  حسن عرفان کا انتقال کراچی میں ھوا تھا جہاں فیملی کے ساتھ 1976 سے قیام پزیر تھا . مجھے اسکے انتقال کی  خبر  تین دن بعد اسکے واٹس ایپس نمبر پر سے اسکی بیٹی عروج کے زریعے ملی۔ اسکے اس اچانک موت کی خبر سنکر  میں بھونچکا سا رہ گیا تھا اور غم واندھو کی وادی میں ایسا کھوگیا تھا جو میرے لئیے زیر تحریر لانا بیحد مشکل ھے۔میرے دل سے  ایک زبردست آہ نکلی تھی اور مییں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا رھنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی  تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی حسن  عرفان جسکو میں ھمیشہ پیار سے عرفانی کہتا تھا میرا بچپن سے دوست تھا۔ ھم نے   مارچ 1962 سے پانچویں کلاس سے   ایک ساتھ پڑھتے ھوئیے انجئینرنگ کالج پشاور  اگست  1974   تک بی ایس سی انجئیرنگ ( الیکٹریکل)...

Regarding Jinnah House Lahore ie the property of Quaid-e-Azam Muhmmad Ali Jinnah

لاہور کا کورکمانڈر ہاؤس جہاں قائداعظم ایک رات بھی نہیں رہے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ لاہور کا کور کمانڈر ہاؤس قائد اعظم محمد علی جناح نے 1943 میں ایک لاکھ 62 ہزار روپے میں خریدا تھا۔ لاہور میں مظاہرین کے ہاتھوں جلایا جانے والا کور کمانڈر ہاؤس صرف اس لیے تاریخی اہمیت کا حامل نہیں کہ یہ ایک قدیم عمارت تھی جسے قومی ورثے کے تحت تحفظ حاصل تھا بلکہ اس کی اہمیت یوں بھی ہے کہ یہ لاہور میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا گھر تھا۔ اس عمارت کا شمار قائداعظم کی چار جائیدادوں میں ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ قائد اعظم نے کراچی اور لاہور والے جناح ہاؤس بمبئی میں واقع اپنا لٹلز گبز والا بنگلہ اور مے فیئر فلیٹ 1943 میں فروخت کر کے خریدے تھے۔ انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ پاکستان بننے والا ہے اور انہیں کراچی اور لاہور میں رہائش گاہوں کی ضرورت ہو گی۔ جناح ہاؤس لاہور کا سودا جسٹس فائز عیسیٰ کے والد نے کیا نامور محقق اور سینیئر بیوروکریٹ ڈاکٹر سعد خان کی کتاب 'محمد علی، دولت، جائیداد اور وصیت' میں لکھا ہے کہ قائد اعظم جب کوئٹہ تشریف لائے تو انہوں نے مسلم لیگی رہنما قاضی محمد عیسیٰ کے گھر قیام...

Article regarding restoration of commuted pension innrespect of retured PTCL employees

 Restoration of Commuted Pension case نوٹ :- میں نے یہ  آڑٹیکل -46 تقریبن ساڑھے پانچ سال پہلے نومبر 2017 میں لکھا تھا جس میں کمیوٹیشن پنشن بحالی میں در پیش مسعلہ کے بارے میں بھی لکھا تھا ۔ جو اس آڑٹیکل کا آخری پیرا ھے۔ اس آڑٹیکل کو دوبارا آپ لوگوں کی طرف متوجہ کرنے کا مقصد یہ ھے کے حال ھی میں ایم اسلم صاحب نے کچھ ڈکومنٹس پنشن کی بحالی کے جو حکومت نے 2013 جاری کئی تھے واٹس ایپس پر پیسٹ کرکے سب کو یہ  آئیڈیو پیغام دیا کے وہ اسپر عمل نہ کرنے پر کیسسس کریں جبکے میں  یہ تمام باتیں کے پی ٹی ای ٹی کیوں اتنی ھٹ دھرمی کررھی ھے اپنے اس آڑٹیکل 46 نومبر 2017 میں پہلے ھی بتا چکا ھوں اس آڑٹیکل سے مستفید ھونے کے لئے آپ سبکا اس کو مکمل ، بڑے غور اور تسلی سے پڑھنا بیحد ضروری ھے. شکریہ واسلام  طارق بتاریخ 7 مئی 2023                                                         -:Article-46:- [پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی کی ھٹ. دھرمی . عدالتی ...