Article-229 [ Regarding HSCP order of dated 10th July 2025]
Article-229
موضوع : PTET نے سپریم کوڑٹ کے 10 جولائی 2025 کے اپنے خلاف فیصلے کے خلاف رویو پٹیشنیں دائیر کرنا۔انکی یہ تمام CRPS مسترد ھوجائیں گی انشاللہ ۔کیونکے جو انھوں سوالات اٹھائیے ھیں وہ عدالت پہلے انکا جواب دے چکی ھے۔
عزیز پی ٹی سی ایل ساتھیو
اسلام وعلیکم
جیسا کے آپ سب جانتے ھی ھوں گے کے 10 جولائی 2025 سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس فیصلے (جو CA No. 1509/2021 سے متعلق ہے اور جولائی 2025 میں جاری ہوا) میں واضح طور پر کنفرم کیا ہے کہ ٹی اینڈ ٹی میں کام کرنے والے تمام ملازمین سول سرونٹس کی کیٹیگری میں آتے تھے، کیونکہ ان کی تنخواہ اور پنشن سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت دی جاتی تھی۔ جب یہ ملازمین یکم جنوری 1991 کو کارپوریشن (پی ٹی سی) میں منتقل ہوئے تو کارپوریشن نے ٹی اینڈ ٹی کے رولز اپنا لیے، جس کی وجہ سے انہیں بھی سرکاری تنخواہ اور پنشن دی جاتی رہی، اور جو کارپوریشن میں بھرتی ہوئے ان پر بھی سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت نافذ قوانین ہوئے، جس میں سرکاری تنخواہ، پنشن اور اضافے شامل تھے۔ اسی طرح، جب یہ سب یکم جنوری 1996 کو کمپنی (پی ٹی سی ایل) میں منتقل ہوئے تو انہی قوانین کا اطلاق جاری رہا، اور ان کے پنشنری حقوق محفوظ رہے، جو سول سرونٹس کی حیثیت سے بڑھتے رہے۔ عدالت نے اکثریت (2-1) سے یہ قرار دیا ہے کہ ٹرانسفر کے باوجود ان کے حقوق کاٹے نہیں جا سکتے، اور اسطرح عدالت نے پی ٹی ای ٹی کی طرف سے دائر کردہ اپیلیں CPLAs وہ تمام ڈسمس کردیں اور انکے حق میں آیے ھوئیے 2 نومبر 2021 کو متعلقہ ھائیکوڑٹ کے فیصلے کو بحال کردیا جسمیں عدالت نے ان تمام پٹیشنروں کو گورمنٹ کی پنشن کا حقدار ٹھرایا جو ٹی اینڈ ٹی میں بھرتی ھوئیے اور سول سرونٹ کی تعریف میں آتے جو سول سرونٹ ( E&D) کی کلاز 2 بی ون میں دی گئی ھے اور یہ واضح کیا مالی مسائل کی صورت میں ماڈل کو ایڈجسٹ کیا جائے، نہ کہ حقوق کو۔ یہ اور نوے دن کے اندر انکو پیمنٹ کرنے کا شیڈول پیش کیا جائیے۔ عدالت نے سول سرونٹس اور ورک مین کے درمیان فرق کو تسلیم کیا اور کہا کہ یہ فرق تبادلے کے وقت کے قانونی ڈھانچے اور استحقاقات کی نوعیت پر مبنی ہے۔ سول سرونٹس ان ملازمین کو کہا گیا جن کے استحقاقات استحقاقی قوانین (statutory laws) سے محفوظ ہیں، جیسے پنشن اور دیگر مراعات جو تبادلے کے وقت سے برقرار رہتی ہیں۔ ورک مین ان ملازمین کو قرار دیا گیا جن کے استحقاقات معاہدوں (contractual terms) پر منحصر ہیں اور انہیں استحقاقی تحفظات کی بجائے معاہدوں کے مطابق حقوق ملتے ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ ہر طبقے کے حقوق کا تحفظ ہو، خاص طور پر ان ملازمین کے جو رضاکارانہ طور پر اپنے دعوے چھوڑ چکے ہیں۔ اس فیصلے کے آتھر محترم چیف جسٹس یحی آفریدی اپنے فیصلے کے پیراگراف 23 اور 24 میں یہ بات کلئر کردی کے ٹی اینڈ ٹی میں کام کرنے والے تمام تمام ملازمین چاھے کسی گورمنٹ بی پی ایس گریڈ میں ھوں سب سول سرونٹ میں آتے اور جب یہ ٹرانسفڑڈ ھوکر کارپوریشن میں تو سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے کی پروٹیکشن میں تھے اور جو کارپوریشن میں بھرتی ھوئیے وہ بھی انھی گورمنٹ کے قوانین (Statutory Rules) کی پروٹیکشن میں تھے۔ میں ان دونوں پیراگرافس کا مختصر نچوڑ نیچے پیش کرھا ھوں ۔ تاکے آپ کو اندازہ ھوجائیے کے کیوں ٹی اینڈ ٹی میں کام کرنے والے تمام کرنے ملازمین سول سرونٹ تھے اور پھر کارپوریشن اور پھر کمپنی میں ٹرانسفڑڈ ھونے کے بعد وہ انھی گورمنٹ کے قوانین کی پروٹیکشن میں تھے۔ اور انکو گورمنٹ والی پنشن دی جانی تھی
پیراگراف 23 میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ ٹی اینڈ ٹی (ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف) سے پی ٹی سی (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن) اور پھر پی ٹی سی ایل (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ) میں منتقل ہونے والے ملازمین کے پنشنری حقوق اور فوائد محفوظ ہیں، جو سول سرونٹس کی حیثیت سے ڈائنامک اور بڑھتے ہوئے ہیں فروزن نہیں ھیں ۔ قانونی فریم ورک (جیسے پی ٹی سی ایکٹ کی سیکشن 9 اور پی ٹی سی ایل ایکٹ کی سیکشن 36) اور انتظامی میکانزم (جیسے پی ٹی ای ٹی کا قیام) ان حقوق کی ضمانت دیتے ہیں، جو سٹیٹ یا اختیاری ادائیگیوں پر منحصر نہیں بلکہ قانونی طور پر یقینی بنائے گئے ہیں۔
پیراگراف 24 میں عدالت نے مالی خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خدشات قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے؛ اگر پنشن ماڈل مالی طور پر ناقابل برداشت ہو تو اسے دوبارہ ترتیب دیا جائے، نہ کہ حقوق کاٹے جائیں۔ پی ٹی سی ایل کو اپنی سابقہ سول سرونٹس کی مالی ذمہ داری تسلیم کرنی چاہیے، اسے اپنے اکاؤنٹس میں ظاہر کرنا چاہیے، اور 90 دنوں میں ادائیگیوں کا ممکنہ شیڈول بنانا چاہیے۔ تو، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس فیصلے (جو CA No. 1509/2021 سے متعلق ہے اور جولائی 2025 میں جاری ہوا) میں واضح طور پر کنفرم کیا ہے کہ ٹی اینڈ ٹی میں کام کرنے والے تمام ملازمین سول سرونٹس کی کیٹیگری میں آتے تھے، کیونکہ ان کی تنخواہ اور پنشن سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت دی جاتی تھی۔ جب یہ ملازمین یکم جنوری 1991 کو کارپوریشن (پی ٹی سی) میں منتقل ہوئے تو کارپوریشن نے ٹی اینڈ ٹی کے رولز اپنا لیے، جس کی وجہ سے انہیں بھی سرکاری تنخواہ اور پنشن دی جاتی رہی، اور جو کارپوریشن میں بھرتی ہوئے ان پر بھی سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت نافذ قوانین ہوئے، جس میں سرکاری تنخواہ، پنشن اور اضافے شامل تھے۔ اسی طرح، جب یہ سب یکم جنوری 1996 کو کمپنی (پی ٹی سی ایل) میں منتقل ہوئے تو انہی قوانین کا اطلاق جاری رہا، اور ان کے پنشنری حقوق محفوظ رہے، جو سول سرونٹس کی حیثیت سے بڑھتے رہے۔ عدالت نے اکثریت (2-1) سے یہ قرار دیا ہے کہ ٹرانسفر کے باوجود ان کے حقوق کاٹے نہیں جا سکتے، اور مالی مسائل کی صورت میں ماڈل کو ایڈجسٹ کیا جائے، نہ کہ حقوق کو۔
[عدالت اپنے فیصلے کے جن پیراز میں سول سرونٹ اور ورکمین کی تفریق بیان کی میں نے AI Grok3 کے زریعے اسکا آسان اردو ترجمع کرایا اوراسکا مختصر خلاصہ زیر پیش ھے
آسان اردو ترجمعہ (پیراز 18 تا 22):
پیرا 18: عدالت نے فیصلہ دیا کہ سول سرونٹس اور ورک مین کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس فیصلے کے مطابق، جو ملازمین سول سرونٹس ہیں، انہیں استحقاقی تحفظات (statutory protections) حاصل ہیں، جبکہ ورک مین کے استحقاقات ان کے معاہدوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس فرق کو نظر انداز کرنا انصاف کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔
پیرا 19: سول سرونٹس کے استحقاقات ان کے تبادلے کے وقت کے قانونی ڈھانچے پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کا پنشنر درجہ اور دیگر مراعات محفوظ رہتی ہیں، جبکہ ورک مین کے استحقاقات ان کے معاہدوں اور ملازمت کے حالات پر منحصر ہوتے ہیں۔
پیرا 20: سول سرونٹس اور ورک مین کے درمیان فرق تبادلے کے وقت موجود قانونی حالت پر مبنی ہے۔ سول سرونٹس کو استحقاقی تحفظات ملتی ہیں، جبکہ ورک مین کے استحقاقات معاہدوں پر منحصر ہیں۔ اس فرق کو تسلیم کرنا ضروری ہے تاکہ ہر ملازم کے حقوق کا احترام ہو۔
پیرا 21: عدالت کا کہنا ہے کہ پنشن اور دیگر مراعات کو ان ملازمین کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے جن کا یہ حق پہلے سے موجود تھا۔ اس کے علاوہ، استحقاقی تحفظات کو بہتر بنانے کے لیے نئے معیارات بھی بنائے جا سکتے ہیں، لیکن ورک مین، جن کے استحقاقات معاہدوں پر مبنی ہیں، انہیں اسی کے مطابق دیکھا جائے گا۔
پیرا 22: جو ملازمین نے رضاکارانہ علیحدگی (VSS) کے تحت مراعات لیں، ان کا پنشن کے دعوے ختم ہو جاتے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ قانونی ڈھانچہ صرف ان حقوق کو محفوظ رکھتا ہے جو پہلے سے قانونی طور پر موجود تھے، نہ کہ ان ملازمین کے لیے جنہوں نے معاہدوں کے ذریعے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔
خلاصہ اور نچوڑ:
عدالت نے سول سرونٹس اور ورک مین کے درمیان فرق کو تسلیم کیا اور کہا کہ یہ فرق تبادلے کے وقت کے قانونی ڈھانچے اور استحقاقات کی نوعیت پر مبنی ہے۔ سول سرونٹس ان ملازمین کو کہا گیا جن کے استحقاقات استحقاقی قوانین (statutory laws) سے محفوظ ہیں، جیسے پنشن اور دیگر مراعات جو تبادلے کے وقت سے برقرار رہتی ہیں۔ ورک مین ان ملازمین کو قرار دیا گیا جن کے استحقاقات معاہدوں (contractual terms) پر منحصر ہیں اور انہیں استحقاقی تحفظات کی بجائے معاہدوں کے مطابق حقوق ملتے ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ ہر طبقے کے حقوق کا تحفظ ہو، خاص طور پر ان ملازمین کے جو رضاکارانہ طور پر اپنے دعوے چھوڑ چکے ہیں۔
سول سرونٹس کی تفصیلی تعریف مختلف ممالک کے قوانین اور سیاق و سباق کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن عام طور پر یہ ان ملازمین کو کہا جاتا ہے جو کسی سرکاری ادارے یا حکومت کے زیر انتظام ملازمت کرتے ہیں اور ان کے استحقاقات، فرائض، اور مراعات استحقاقی قوانین (statutory laws) سے محفوظ ہوتے ہیں۔ دی گئی دستاویز (CA No. 1509 of 2021) کے تناظر میں، سول سرونٹس کی تعریف کچھ اس طرح سامنے آتی ہے:
• قانونی حیثیت: سول سرونٹس وہ ملازمین ہوتے ہیں جن کی ملازمت اور استحقاقات تبادلے کے وقت موجود قانونی ڈھانچے پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کا درجہ، پنشن، اور دیگر مراعات استحقاقی طور پر طے شدہ ہوتی ہیں، نہ کہ صرف معاہدوں پر منحصر۔
• استحقاقی تحفظات: انہیں سرکاری ملازمین کے طور پر استحقاقی حقوق حاصل ہوتے ہیں، جیسے پنشن، بھرتی کے وقت سے لے کر ریٹائرمنٹ تک کی مراعات، اور تبادلے کے بعد بھی ان کے استحقاقات برقرار رہتے ہیں، بشرطیکہ انہوں نے قانونی طور پر انہیں قبول کر رکھا ہو۔
• فرق ورک مین سے: سول سرونٹس ورک مین سے اس لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں کہ ان کے استحقاقات معاہدوں کی بجائے استحقاقی قوانین سے سرچشمہ لیتے ہیں، اور ان کی ملازمت کا تعلق سرکاری انتظامیہ سے ہوتا ہے۔
• مثال اور تناظر: دی گئی دستاویز میں، سول سرونٹس ان ملازمین کو قرار دیا گیا جو تبادلے کے وقت استحقاقی ڈھانچے کے تحت محفوظ حقوق رکھتے ہیں، جبکہ ورک مین کے استحقاقات معاہدوں پر منحصر ہوتے ہیں۔
ایک عام تعریف کے طور پر، سول سرونٹس وہ ہوتے ہیں جو سرکاری ملازمت میں ہوں، ان کے فرائض عوامی مفاد کے لیے ہوں، اور انہیں استحقاقی تحفظات اور پنشن جیسے فوائد حاصل ہوں، جو قانونی طور پر تسلیم شدہ ہوں۔
اب پی ٹی ای ٹی نے اس فیصلے کے رویو پٹیشنس( CRPs) دائیر کردیں ھیں اور ھر ایک میں پھر یہ ھی سوال اٹھا دیا ان ریسپونڈنٹس پی ٹی سی ایل پنشرس پٹیشنرس کو جو ورک مین کی کٹیگری میں آتے ھیں اور سول سرونٹ نھیں ھوتے انکو کیسے گورمنٹ والی تننخواہ دے سکتے ھیں۔ اس دستاویز کا مقصد سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کی گئی سول درخواست (CRPs) کے فیصلے کے خلاف جائزہ لینا ہے، جو 10.07.2025 کو منظور ہوا۔ درخواست گزار پی ٹی ای ٹی کا دعویٰ ہے کہ اصل فیصلے میں مواد خطاؤں کی وجہ سے انصاف متاثر ہوا، اور وہ اسے دوبارہ جائزہ کے لیے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں قانون کے سوالات اٹھائے گئے ہیں تاکہ فیصلے کی قانونی بنیادوں کا دوبارہ جائزہ لیا جاسکے۔
پی ٹی ای ٹی والے یہ سمجھتے ھیں BPS 1 سے لیکر BPS -15 گریڈ میں کام کرنے والے ٹی اینڈ ٹی کے ملازم ورک مین ھوتے ھیں اور وہ بھی ھوتے ھیں جو جنکی ابتدائئ ملازمت تو لوئیر گریڈ میں ھوتی ھے لیکن وہ ریٹائیرمنٹ کے وقت ھائیر گریڈ 17 یا گریڈ 18 یا اس سے بھی اوپر ڈیپاڑٹمنٹل پروموشن کے زریعے آئیے ھوئیے یا کارپوریشن میں بھرتی ھوئیے ھوں وہ سول سرونٹ نھیں ھوتے اور جو لوگ VSS لیکر ریٹئیڑڈ وہ بھی گورمنٹ کی پنشن کے حقدار نھی ھوسکتے اسلئے انکو گورمنٹ والی پنشن نھیں دی جاسکتی۔ پی ٹی ای ٹی صرف ان ریسپونڈنٹس پی ٹی سی ایل پٹیشنر کو سول سرونٹ مانتی ھے جنکی بھرتی گریڈ 17 میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے زریعے ھوئی ھو [ اسی لئیے انھوں گورمنٹ پنشن کے واجبات ادا کرنے جو سپریم کوڑٹ میں شیڈول کی لسٹ بھیجی ھے وہ 250 ایسےھی سول سرونٹ ریسپونڈنٹس ھیں] ۔
اب انھوں نے ان CRPs زریعے یہ درخواست کی کے عدالت ایسے ریسپونڈنٹس کے کیسس ھائی کوڑٹ کو ریمانڈ بیک کریں ۔ تاکے وہ وہ فیصلہ کرسکے کے کون ورکمین کی کٹیگری میں ھے سول سرونٹ کی کٹیگری میں ۔مگر شائید وہ بھول گئیے ھائی کوڑٹ پہلے ھی یہ کنفرم چکی ھے کون ورکمین ھوتا ھے اور کون سول سرونٹ ھوتا ھے اور جبھی تو پی ٹی ای ٹی اسلام آباد ھائی کوڑٹ کے 2 نومبر 2021 کے اس فیصلے خلاف 40 سے زیادہ اپیلیں CPLAs داخل کیں جو سپریم کوڑٹ نے 10 جولائی 2025 کو ڈسمس کردیں اور ھائی کوڑٹ میں پی ٹی سی ایل پنشنرس پٹیشنرس کے حق میں آیا ھوا ھائی کوڑٹ کا فیصلہ بحال کردیا۔ ھائی کوڑٹ نے بہت سے پی ٹی سی ایل پنشنرس پٹیشنرس کے حق نھیں دیا تو انھوں نے بھی سپریم کوڑٹ میں اپیلیں دائیر کردیں جو سپریم کوڑٹ نے 10 جولائی 2025 کے اپنے فیصلے میں ریمانڈ بیک کردیں کے ھائی کوڑٹ یہ ثابت کرے کے ٹی اینڈ سے کارپوریشن میں یکم جنوری 1991 یہ سب سول سرونٹ تھے اور پھر انکو بھی گورمنٹ والی پنشن دے دی جائیے ( نیچے میں نے اس آڈرز کی دو فوٹو کاپیاں پیسٹ کردیں ھیں جو اس فیصلے کے پیرا نمبر 25 میں دیا گیا جو محترم چیف جسٹس ، جسٹس آفریدی صاحب نے تحریر کیا جسکی تائید تین رکنی کے دوسرے ممبر محترم جسٹس امین الدین خان نے کی۔ جبکے تیسرے ممبر محترمہ جسٹس عائشہ ملک کے پی ٹی ای ٹی کے حق میں فیصلہ لکھا اور اور انکی طرف سے ڈالی ھوئی اپیلوں کو منظور کیا۔ چیف جسٹس ، جسٹس یحی آفریدی صاحب نے اس سے اختلاف کیا اور اپنا فیصلہ پی ٹی سی ایل پنشنرس کے حق میں لکھا جسکی محترم جسٹس امین الدین خان نے بھی تائید کی۔ اسلئیے یہ 2:1 سے پی ٹی سی ایل پنشنرس پٹیشنرس کے حق میں آیا) مگر باوجود اسکے عدالت نے ورکمین اور سول سرونٹ میں کیا تفریق کی تشریح کے سول سرونٹ کو گورمنٹ قوانین کی پروٹیکشن ھے انکو تنخواہ اور پنشن قانون کے مطابق ملتی ھی اسلئیے انکو سول سرونٹ کہتے ھیں اور جو ورک مین ھوتے ھیں وہ وقتی معاھدہ کے تحت کام کرتےھیں کے انکو کیا معاوضہ دیا جائیے گا ان کو نہ گورمنٹ کی پنشن ملتی ھے اور نہ ھی پنشن ، پھر وہ ھی سوال اٹھا دیا اور رویو پٹیشن کرنے کا مقصد بیان کر دیا جو زیر پیش ھے
1. یہ کہ مذکورہ فیصلے کے پیرا 24 کے مطابق، متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ کچھ جواب دہندگان/ملازمین، جن میں موجودہ CPLA بھی شامل ہے، مختلف ملازمت کی اقسام/حیثیتوں سے ممتاز ہیں، جو سول سرونٹس سے الگ ہیں، اور قانون کے مطابق اس فیصلے میں یہ طے پایا کہ انہیں وہ سروس فوائد نہیں مل سکتے جو اس فیصلے کے منسوخی کے نتیجے میں میسر آتے۔
2. یہ کہ اس پس منظر میں، موجودہ جائزہ درخواست دائر کی گئی ہے تاکہ ریکارڈ پر موجود مواد خطاؤں کی تصحیح اور وضاحت کی جاسکے، جو انصاف کے عمل میں غلطی کا باعث بنے، اور اسے قانون اور بنیادوں کے سوالات کی روشنی میں دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
مقصد اور اس میں بتائی گئی اہم باتیں:
مقصد:
اس دستاویز کا مقصد سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کی گئی سول درخواست (CPLA) کے فیصلے کے خلاف جائزہ لینا ہے، جو 10.07.2025 کو منظور ہوا۔ درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ اصل فیصلے میں مواد خطاؤں کی وجہ سے انصاف متاثر ہوا، اور وہ اسے دوبارہ جائزہ کے لیے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں قانون کے سوالات اٹھائے گئے ہیں تاکہ فیصلے کی قانونی بنیادوں کا دوبارہ جائزہ لیا جاسکے۔
میں سمجھتا ھوں انکی یہ ڈالی ھوئی تمام CRPs مسترد ھوجائیں گی انشاللہ شائید انکو کو عدالت کی طرف سے جھاڑ بھی پڑے اور جرمانہ بھی ھو ۔جس چیز کو عدالت عظمی سپریم کوڑٹ نے اپنے فیصلے میں کلئر کردیا کے ورکمین اور سول سرونٹ میں تفریق کی تشریح کردی اسکا دوبارا جائیزہ لینے کی درخواست کی جارھی ھے ایسے ریسپو ڈنٹس کے کیسس ریمانڈ بیک کردئیے جائیے متعلقہ ھائی کوڑٹوں میں تاکے وہ یہ ثابت کرسکے کے یہ تمام ورکمین کی کٹیگری میں آتے ھیں اور گورمنٹ کی پنشن کے حقدار نھیں ۔ آپ لوگ خود ھی بتائیں جسکی تشریح سپریم کوڑٹ نے کردی ھو [ اور یہ کنفرم کردیا ٹی اینڈ میں کام کرنے والے تمام ملازمین سول سرونٹ تھے اوریہ ٹرانسفڑڈ ھوکر پہلے کارپوریشن اور پھر کمپنی میں وہ انھی سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے گورمنٹ قوانین ( Statutory Rules) کی پروٹیکشن میں تھے اور وہ ھی گورمنٹ پنشن اور تنخواہ کے حقدار تھے انکی یہ پنشن یا تنخواھیں فیروزن نھیں تھیں یعنی گورمنٹ اپنے سول سرونٹ کی تنخواھوں یا پنشن میں اضافہ کرتی تو یہ ھی اضافہ پی ٹی ای ٹی کا بوڑڈ آف ٹرسٹیز دینے کا پابند تھا کیونکے اسی مقصد کے لئیے پی ٹی ای ٹی کی یکم جنوری 1996 کی تخلیق کی گئی تھی] تو اسکی تبدیلی ھائی کوڑٹ کیسے کرسکتا اسکو تو یہ اختیار ھی نھیں سپریم کوڑٹ کے کسی بھی آڈر کو چینج کرے۔ تو لامحالہ انکی یہ تمام CRPs سپریم کوڑٹ مسترد کردے گی۔
وہ تمام پی ٹی سی ایل پٹیشنرز جو جو پی ٹی ای ٹی کی طرف سےرویو پٹیشنیں ڈالنے کی وجہ سے بددول ھوگئیے ھیں ان سے میری یہ ھی گزارش ھے پریشان نہ ھوں انشاللہ انکی یہ تمام رویو پٹیشنیں مسترد ھوجائیں گی اور 10 جولائی 2025 کو انکے حق میں آیا ھو بحال ھو جائیگااور انکو بھی گورمنٹ والی پنشن اور اسکے بقایا جات ضرور ملیں گے بس دعا کریں یہ تمام CRPs جلد لگ جائیں آمین!
واسلام محمد طارق اظہر
ریٹائیڑڈ جی ایم ( آپس) پی ٹی سی ایل
راولپنڈی
تاریخ 27 اکتوبر 2025
Comments