Posts

Regarding Jinnah House Lahore ie the property of Quaid-e-Azam Muhmmad Ali Jinnah

لاہور کا کورکمانڈر ہاؤس جہاں قائداعظم ایک رات بھی نہیں رہے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ لاہور کا کور کمانڈر ہاؤس قائد اعظم محمد علی جناح نے 1943 میں ایک لاکھ 62 ہزار روپے میں خریدا تھا۔ لاہور میں مظاہرین کے ہاتھوں جلایا جانے والا کور کمانڈر ہاؤس صرف اس لیے تاریخی اہمیت کا حامل نہیں کہ یہ ایک قدیم عمارت تھی جسے قومی ورثے کے تحت تحفظ حاصل تھا بلکہ اس کی اہمیت یوں بھی ہے کہ یہ لاہور میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا گھر تھا۔ اس عمارت کا شمار قائداعظم کی چار جائیدادوں میں ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ قائد اعظم نے کراچی اور لاہور والے جناح ہاؤس بمبئی میں واقع اپنا لٹلز گبز والا بنگلہ اور مے فیئر فلیٹ 1943 میں فروخت کر کے خریدے تھے۔ انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ پاکستان بننے والا ہے اور انہیں کراچی اور لاہور میں رہائش گاہوں کی ضرورت ہو گی۔ جناح ہاؤس لاہور کا سودا جسٹس فائز عیسیٰ کے والد نے کیا نامور محقق اور سینیئر بیوروکریٹ ڈاکٹر سعد خان کی کتاب 'محمد علی، دولت، جائیداد اور وصیت' میں لکھا ہے کہ قائد اعظم جب کوئٹہ تشریف لائے تو انہوں نے مسلم لیگی رہنما قاضی محمد عیسیٰ کے گھر قیام...

Article regarding restoration of commuted pension innrespect of retured PTCL employees

 Restoration of Commuted Pension case نوٹ :- میں نے یہ  آڑٹیکل -46 تقریبن ساڑھے پانچ سال پہلے نومبر 2017 میں لکھا تھا جس میں کمیوٹیشن پنشن بحالی میں در پیش مسعلہ کے بارے میں بھی لکھا تھا ۔ جو اس آڑٹیکل کا آخری پیرا ھے۔ اس آڑٹیکل کو دوبارا آپ لوگوں کی طرف متوجہ کرنے کا مقصد یہ ھے کے حال ھی میں ایم اسلم صاحب نے کچھ ڈکومنٹس پنشن کی بحالی کے جو حکومت نے 2013 جاری کئی تھے واٹس ایپس پر پیسٹ کرکے سب کو یہ  آئیڈیو پیغام دیا کے وہ اسپر عمل نہ کرنے پر کیسسس کریں جبکے میں  یہ تمام باتیں کے پی ٹی ای ٹی کیوں اتنی ھٹ دھرمی کررھی ھے اپنے اس آڑٹیکل 46 نومبر 2017 میں پہلے ھی بتا چکا ھوں اس آڑٹیکل سے مستفید ھونے کے لئے آپ سبکا اس کو مکمل ، بڑے غور اور تسلی سے پڑھنا بیحد ضروری ھے. شکریہ واسلام  طارق بتاریخ 7 مئی 2023                                                         -:Article-46:- [پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی کی ھٹ. دھرمی . عدالتی ...

A great tribute to my dearest father-in -law late Khter Zaman khan

Image
آہ میرے پیارے ابا میاں!!!   سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ھوگئیں                 خاک میں کیا ھوں گی صورتیں ، جو پنہاں ھوگئیں خراج عقیدت !!! دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت اپنے عظیم سسر اختر زمان خان  ، ایک جلیل القدر بزرگ ھستی کو  ،جن کو ھم سب ابا میں کہتے  تھے ، انکی آج یعنی ۱۹ اپریل ۲۰۲۳ کو ۱۵ویں برسی ھے- اللہ تعالی انکو غریق رحمت کرے اور اپنی جوار رحمت میں جگہ دے-آمین! میں اپنے آپ کو اس لحاظ سے بیحد خوش قسمت تصور کرتا ھوں   اور فخر بھی کرتا ھوں کے میں ایسے بزرگ ھستی کی فرزندی میں تھا جن کو ھمیشہ اللہ تعلٰی کی عبادت میں مصروف پایا۔ وہ ایک بہت پہنچے ھوئیے بزرگ تھے لیکن یہ بات ھر کسی کو آشکارا نہ تھی۔اگرچہ ابا میاں بلکل بھی پیری مریدی کے قائیل نہ تھے۔ جو بھی اپنی کوئی پریشانی لے کر ان کے پاس حاظر ںھوتا تو وہ صرف اسکو پڑھنے کے لئیے بتاتے کے اسکو کیا پڑھنا چاھئیے تاکے اسکی پریشانی ختم ھو۔ نماز  باقاعدہ پڑھنے کی سختی سے تاکید کرتے اور درود شریف  کا ورد مسلسل جاری رکھنے کے لئیے کہتے۔ انکا کہنا تھا درود شریف  پڑھنے اور اسکے وسیلے سے دعا مانگنے سے اللہ تعلٰی انسان کے مصائیب اور مشکلات ختم ک...

Regarding filing refrence against HCJ Atta Bendyal in JC

Image
Attention          Attention               Attention محترم  چیف جسٹس عطا بندیال کے خلاف ریفرنس دائیر کرنے کا معاملا. . . . وہ آئین پاکستان کی شق (a)(5)209 کے مطابق gulity of Misconduct کے مرتکب ھوئیے  ھیں جن کے خلاف کسی بھی source  سے یا صدر پاکستان کی طرف سے اسی آئین پاکستان کی شق (5)209 کے تحت جوڈیژنل کونسل کو ریفرنس بھیجا جا سکتا ھے جو انکے خلاف آئین پاکستان کی شق (6)209 کے تحت تادیبی کروائی کرکے انکو نوکری سے برطرف کرنے کی سفارش صدر پاکستان کو کرسکتا ھے اور صدر پاکستان انکو نوکری سے نکال سکتے ھیں  عزیز دوستو  اسلام و علیکم   جیسا کے آپ سب جانتے ھیں کے ھمارے ملک میں ایک عدالتی بحران آیا ھوا ھے ۔ چیف جسٹس پاکستان نے اپنی ھمدردی پی ٹی آئی کی طرف مائیل کرتے ایک ایسا اقدام کردیا ھے جس سے وہ بادئی انظر میں  guilty  of Misconduct کے مرتکب ھوئیے ھیں اب انکو اس منصب سے ھٹانے کے  جوڈیشنل کونسل  میں  ریفرنس آئین کے آڑٹیکل (5)209 کے تحت دائیر  کرنا نہ صرف صدر  پاکستان اور حکومت کا فرض ھے بلکے پاکستانی عوام کا  کوئی فرد  یا افراد بھی ایسا ریفرنس دائیر کرسکتا ھے ۔ تو میں نے فیصلہ کیا ھے کے میں ب...

انصاف کی دیوی

Image
جھاں انصاف نہیں وہاں امن نہیں .... عدالتوں میں انصاف کی دیوی کا مجسمہ تو سبھی نے دیکھا ہوگا بھلے فلموں میں ہی سہی ..دراصل یہ محض مجسمہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے جو ساری دنیا کو عدل و انصاف کا پیغام دیتی ہے. رومن کی دیوی کے نام پہ اس انصاف کی دیوی کو بنایا گیا جس کا نام "جسٹسیا" تھا , اس کے علاوہ گریک یونانی عورت تھیمس اور اسی طرح مصر میں بھی انصاف کی دیوی کے متعلق لکھا گیا ہے .... جس کی آنکھوں پہ کالی پٹی بندھی ہوتی ہے جو ایک ہاتھ میں تلوار, دوسرے ہاتھ میں ترازو پکڑے پیروں تلے سانپ کو کچل رہی ہوتی ہے اور ہر علامت کے پیچھے ایک پیغام ہے  میزان کا مطلب سچ اور جھوٹ کا فیصلا ثبوتوں کے وزن پہ کرنا,  تلوار کا مطلب انصاف کی دیوی قانون کا صرف فیصلہ ہی نہیں کرتی بلکہ اس کو نافذ کرنے کا اختیار طاقت بھی رکھتی یے  پیروں میں سانپ کو کچلنے سے مراد ہر شیطانی برائی کو دبوچنا ہے  آنکھوں میں بندھی پٹی کا مقصد انصاف کی دیوی یہ نہیں دیکھا کرتی کہ اُس کے آگے کون کھڑا ہے اپنا , پرایا یا کس بھیس میں کتنا طاقتور ہے  یہ دیوی تو اندھی ہے جو صرف اور صرف ثبوتوں کی بنیاد پہ فیصلا کرتی ہے .. جس...

کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟

دنیا زندان بنی اور زندان میں تاریکی بڑھی تو خونِ دل میں انگلیاں ڈبو کر فیض نے تو برسوں پہلے یہ شعر نجانے کس ترنگ میں کہہ ڈالا تھا، لیکن اپنے ارد گرد نظریں دوڑائیں تو موجودہ صورتحال میں آج کا معاشرہ اس شعر کے قالب میں مکمل طور پر رنگا اور ڈھلا نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیض نے یہ شعر آج کے معاشرے اورموجودہ صورتحال کے تناظر میں ہی کہا ہوگا۔ آج معاشرے کی ہر اکائی اور ہر جزو کے ہونٹوں پراُس شاعرِ انقلاب کا بس یہی شعر متبسم دکھائی دیتا ہے۔ اور ایسا بھلا آخر کیوں نہ ہو؟ جب ڈاکٹر دکھی انسانیت کی مسیحائی کرنے کی بجائے علاج کو اپنے فیس کے ترازو میں تولیں، جب جراح زخموں پر پھاہا رکھنے کی بجائے اُنہیں ناسور بنانے کے در پر ہوں، جب اسپتالوں میں شفا کی بجائے بیماریاں پل رہی ہوں، جب حکیم ، وید، دانا اور سیانے نبض کی بجائے مریض کی جیب پر نظریں گاڑ کر بیٹھ جائیںتو بتائیے کہ ....ع کسے وکیل کریں کس سے  منصفی چاہیں؟ جب جب ایک استاد نئی نسل کوآداب، اخلاق اور تعلیم کے زیورسے آراستہ کرنے کی بجائے اُن کی رگوں میں منافرت، منافقت، ہوس اور جہالت کا سبق اتارتا رہے گا۔۔۔ جب جب ایک مدرس تدریس کو ...

Article-161[Regarding my tweet of dated 22-1-2023 to HCJ]

 My tweet of dated 22-01-2023 to HCJ https://twitter.com/mtazhar/status/1617793045751291904?s=61&t=jg2LJ00lq-UKosH6RDBZ2g Here is the text of appeal attached in the tweet An appeal of aggrieved  PTCL Pensioners Petitioners to the most  respected hon'ble Chief Justice of Pakistan  Mr Justice Umar Atta Bandial Sb    The aggrieved thousand PTCL pensioners  petitioners make a most courteous and compassionate appeal to respected hon'ble Chief Justice of Pakistan  for issuing order for  hearing the appeals  filled by PTCL & PTET, pending in HSCP,  since from  December 2021.Which are filled against the decision of the Division Bench of  IHC of dated 2nd November 2021 ,which held that   all such PTCL Pensioners Petitioners,  retired normally and  at superannuation age of sixty years and who fall within the category of section 2(1)(b) of the definition of civil servant of  in the Civil Servants Act, 1973...