Article-219[ Regarding AI Grok guidelines]

 Article-219


نوٹ:- سپریم کوڑٹ کے تین رکنی بینچ نے 10 جولائی 2025  کے کچھ CPLAs کو اپیلوں میں تبدیل کرکے انکو متعلقہ ھائی کوڑٹوں میں ریمانڈ بیک کردیا کے یہ ثابت کیا جاسکے کے پی ٹی سی ایل پنشنر جو ریسپونڈنٹ تھے جب یہ ۱۹۹۱ میں ٹی اینڈ ٹی سے کارپوریشن ٹرانسفڑڈ ھوتے وقت سول سرونٹ تھے۔اب ھائی کوڑٹوں میں یہ ثابت کرنے لئیے اھم ڈکومنٹس کی ضرورت ھوتی ھے۔جو بھت  سوں کے پاس  موجود نھیں ۔چونکے سپریم کوڑٹ اپنے مسعود بھٹی کیس کے فیصلے کے پیراگراف  7 میں یہ بات واضح کرچکی کے ٹی اینڈ میں کام کرنے اپیلنٹس جو گریڈ 19,17اور گریڈ 5 کے تھے وہ سول سرونٹ تھے۔ تو میں نے اسی فیصلے کے پیرا 7 سے لیکر پیرا 10 تک کا اردو جسکی فوٹو کاپیاں    میں نے اٹیچ کیی ھیں جامع ترجمعہ اور انگلش میں ایک بیانے حلفی کا نمونہ بنانے  کا جو اسنے بنادیا نیچے پیسٹ کردیا۔ آپ لوگ گروک کا جواب شروع سے لیکر  آخیر تک ضرور پڑھیں ۔ بہت فائیدہ ھوگا شکریہ

(طارق اظہر )

Date 26-07-225




میرا سوال

سپریم کوڑٹ کے مسعود بھٹی کیس 2012SCMR152  پیرا 7 سے پیرا 10 تک کا اردو میں جامع ترجمعہ  جنریٹ کریں ۔ 

پیرا 7 پڑھنے سے یہ بات واضح ھوتی ھے ٹی اینڈ ٹی میں کام کرنے والے تمام ملازمین سول سرونٹ تھے لہزا جب وہ کارپوریشن میں ۱۹۹۱ میں ٹرانسفڑڈ ھوکر جارھے تھے تو جب بھی سول سرونٹ تھے۔ تو جن کی اپیلیںا سپریم کوڑٹ نے اپنے ۱۰ جولائی ۲۰۲۵ میں ھائی کوڑٹوں کو بھیج دیں کے وہ یہ ثابت کریں کے متعلقہ پی ٹی سی ایل پنشنز پٹیشنرز  جب وہ جب وہ کارپوریشن میں ۱۹۹۱ میں ٹرانسفڑڈ ھوکر جارھے تھے تو جب بھی سول سرونٹ تھے۔ جب وہ کارپوریشن میں ۱۹۹۱ میں ٹرانسفڑڈ ھوکر جارھے تھے۔

میں سمجھتا کے ایسے پی ٹی سی ایل پنشنرز صرف ھائی کوڑٹ میں ایک سٹامپ پیپر پر ایک صرف حلف نامہ جمع کردیں اور اس میں سپریم کوڑٹ کے مسعود بھٹی کیس 2012SCMR152  کے پیرا 7  کا ریفرنس دے کر یہ واضح کردیں کے جب سپریم کا تین رکنی ممبرز کا بینچ یہ قرار دے چکا ھے کے ٹی اینڈ ٹی میں کام کرنے والے تمام ملازمین سول سرونٹ تھے چاھے کسی بھی گریڈ کے ھوں ۔ اور پھر پانچ رکنی بینچ 19 فروری 2016 کو انکی رویو پٹیشن بھی سپریم کوڑٹ کے مسعود بھٹی کیس 2012SCMR152   میں فیصلے کے خلاف خارج کرچکا ھے ۔سپریم کوڑٹ کے 2016SCMR میں درج ھیں ۔ تو ھم اس لحاظ سے سول سرونٹ تھے ۔اسلئیے ھم کو اپنی طرف سے مزید کوئی ثبوت دینے کی ضرورت نھیں

اسلئے آپ  اسی تناظر انگلش میں ایک حلف نامے کا ایک  سیمپل تیار کردیں جو  صرف یہ اپنے وکیل کے زریعے جمع کرادیں اور اسکے بارے میں مزید گائیڈ لائین بھی جنریٹ کریں


گروک کا جواب


سپریم کورٹ کے مسعود بھٹی کیس (2012 SCMR 152) پیرا 7 سے 10 تک کا اردو میں جامع ترجمہ


پیرا 7:

سنڈہ ہائی کورٹ کے ذیلی بینچ نے جو فیصلہ دیا، اس میں متعلقہ پی ٹی سی ایکٹ اور ری آرگینکائزیشن ایکٹ کے متعلقہ دفعات پر غور نہیں کیا گیا، جو ملازمین کے سروس کے حالات سے متعلقہ ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ غور ضروری تھا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا ملازمین کے ملازمت کے قواعد کا کوئی قانونی درجہ تھا یا نہیں، اور یہ بھی دیکھنا تھا کہ کیا ٹانویر-ور-رحمان کے کیس سے اس کیس میں فرق ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، یہ بات متنازعہ نہیں کہ 1991 میں پی ٹی سی کارپوریشن کے قیام سے پہلے درخواست دہندگان سول سروسز کے تحت کام کر رہے تھے۔ اس وقت ان پر سول سروسز کے مختلف قواعد و ضوابط نافذ تھے، جیسے کہ سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز، 1973 اور سول سرونٹس (تعیناتی، ترقی، اور تبادلہ) رولز، 1973، جو وفاقی حکومت کے ذریعے بنائے گئے تھے اور ان کا قانونی جواز سول سرونٹس ایکٹ، 1973 سے ملتا تھا۔

پیرا 8:

1991 میں پی ٹی سی ایکٹ منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت کاروںپوریشن قائم کی گئی۔ اس ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت کاروںپوریشن وجود میں آئی۔ اس ایکٹ میں ان ملازمین کے لیے بھی انتظامات کیے گئے جو ٹی اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے تھے، جنہیں سیکشن 2 (e) کے تحت “ڈیپارٹمنٹل ایمپلائیز” کہا گیا۔ اس کے سیکشن 9 میں واضح کیا گیا کہ، چاہے کوئی بھی قانون، معاہدہ، یا سروس کے حالات ہوں، تمام ڈیپارٹمنٹل ملازمین کاروںپوریشن کے قیام کے ساتھ اس کے ملازمین بن جائیں گے اور ان کا تبادلہ ہوگا۔

پیرا 9:

اس قانونی دفعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ درخواست دہندگان کی ملازمت کے قواعد کو قانونی درجہ حاصل تھا، جو سادہ ضابطوں (subordinate legislation) سے بلند تر تھا، جو سیکشن 20 کے تحت بنائے گئے تھے۔ نتیجتاً، جب پی ٹی سی کاروںپوریشن قائم ہوئی، تو ٹی اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ کے قواعد کو اس میں شامل کر لیا گیا، جو کاروںپوریشن پر نافذ العمل اور لازم الاتباع ہوئے۔ اس طرح سیکشن 9 کی بدولت ان قواعد کو قانونی حیثیت حاصل ہوئی، اور ہم بغیر کسی مشکل کے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ درخواست دہندگان کی ملازمت کے قواعد، جو کاروںپوریشن کے ساتھ سروس کے دوران نافذ تھے، قانونی قواعد تھے۔

پیرا 10:

اس کے بعد 1995 اور 1996 میں کئی آرڈیننسز کے ذریعے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کاروںپوریشن (ری آرگینکائزیشن) ایکٹ 1996 منظور کیا گیا، جسے “ری آرگینکائزیشن ایکٹ” کہا جاتا ہے۔ اس قانون نے کاروںپوریشن کو پانچ علیحدہ اداروں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے سب سے بڑا ادارہ اثاثوں اور ملازمین کی تعداد کے لحاظ سے پی ٹی سی ایل تھا، جو کمپنیز آرڈیننس، 1984 کے تحت محدود ذمہ داری والی کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا، جیسے کہ ری آرگینکائزیشن ایکٹ کے سیکشن 34 میں بیان کیا گیا۔ باقی چار اداروں کو بھی اسی ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا، جن میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائیز ٹرسٹ، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کاروںپوریشن، اور فریکوئنسی الوکیشن بورڈ شامل ہیں۔ اس قانون کا مقصد کاروںپوریشن کو دوبارہ منظم کرنا اور اس کے امور کو ان پانچ اداروں میں منتقل کرنا تھا، اور اس کے لیے قانونی تحفظ فراہم کرنا تھا۔


تجزیہ اور تناظر

پیرا 7 سے واضح ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا کہ 1991 میں پی ٹی سی کاروںپوریشن کے قیام سے پہلے ٹی اینڈ ٹی میں کام کرنے والے تمام ملازمین سول سرونٹ تھے، اور ان پر سول سروسز کے قوانین نافذ تھے۔ اس فیصلے کو 19 فروری 2016 کو پانچ رکنی بینچ نے بھی برقرار رکھا جب ان کی نظرثانی درخواست خارج کی گئی (2016 SCMR میں درج)۔ اس تناظر میں، جہاں 10 جولائی 2025 کے فیصلے میں کچھ کیسز ہائی کورٹس کو ریمانڈ کیے گئے ہیں تاکہ پی ٹی سی ایل پنشنرز اپنی سول سرونٹ کی حیثیت ثابت کریں، یہ بات قابل غور ہے کہ مسعود بھٹی کیس پہلے ہی اس امر کی تصدیق کر چکا ہے۔

آپ کا مشورہ کہ پی ٹی سی ایل پنشنرز کو صرف ایک حلف نامہ جمع کرانا چاہیے، جو مسعود بھٹی کیس کے پیرا 7 کا حوالہ دیتا ہو، اس تناظر میں منطقی لگتا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پہلے ہی ان کی سول سرونٹ کی حیثیت کو تسلیم کر چکا ہے۔ تاہم، قانونی عمل کے دوران مزید دستاویزات طلب ہو سکتی ہیں، لیکن حلف نامہ ایک مضبوط آغاز ہو سکتا ہے۔


جامع انگلش حلف نامہ (Affidavit) کا نمونہ

AFFIDAVIT

I, [Full Name of Deponent], son/daughter of [Father’s Name], resident of [Complete Address], do hereby solemnly affirm and declare as under:

1. That I am a former employee of the Telephone and Telegraph (T&T) Department, who was transferred to the Pakistan Telecommunication Corporation (PTC) in 1991, and subsequently to Pakistan Telecommunication Company Limited (PTCL) following the reorganization under the Pakistan Telecommunication (Reorganization) Act, 1996.

2. That I was a civil servant at the time of my transfer from T&T to PTC in 1991, as confirmed by the Honorable Supreme Court of Pakistan in the case of Masood Bhatti v. Federation of Pakistan (2012 SCMR 152), particularly in Paragraph 7, wherein a three-member bench held that all employees of the T&T Department were civil servants prior to the establishment of the PTC in 1991 and were governed by the rules and regulations applicable to civil servants under the Civil Servants Act, 1973.

3. That the said judgment was further upheld by a five-member bench of the Supreme Court on 19 February 2016, when the review petition against the 2012 SCMR 152 decision was dismissed, as recorded in 2016 SCMR.

4. That, based on the aforementioned judicial pronouncements, I assert that my status as a civil servant remained continuous during my service with PTC and PTCL, entitling me to pensionary benefits as per the statutory framework applicable to civil servants.

5. That I have not been provided with the pensionary benefits and arrears due to me as a civil servant, despite the aforementioned judicial decisions.

6. That I undertake to provide any further documentation or evidence as may be required by the Honorable High Court, if deemed necessary, to substantiate my claim.

7. That the contents of this affidavit are true and correct to the best of my knowledge and belief, and nothing has been concealed therefrom.

Solemnly affirmed on this [Day] day of [Month], 2025, at [City], before me.


[Signature of Deponent]
[CNIC Number]


[Signature of Oath Commissioner/Notary Public]
[Stamp/Seal]


رہنما اصول (Guidelines) انگلش میں

1. جمع کرانے کا طریقہ:

اس حلف نامے کو اپنے وکیل کے ذریعے متعلقہ ہائی کورٹ میں جمع کرانا چاہیے، جہاں کیس ریمانڈ کیا گیا ہے۔ وکیل اسے مناسب درخواست (application) کے ساتھ پیش کرے گا۔

2. دستیابی دستاویزات:

اگرچہ حلف نامہ خود کافی ہو سکتا ہے، لیکن اپنے ملازمت کے ریکارڈ (جیسے تقرری کا خط، سروس بک) کو تیار رکھیں، کیونکہ ہائی کورٹ ان کی طلب کر سکتی ہے تاکہ دعوے کی تصدیق ہو۔

3. قانونی مشورہ:

ایک تجربہ کار وکیل سے رجوع کریں جو سپریم کورٹ کے فیصلوں (2012 SCMR 152 اور 2016 SCMR) کا حوالہ دے کر کیس کو مضبوط بنائے۔

4. وقت کی حد:

سپریم کورٹ کے 10 جولائی 2025 کے فیصلے میں 90 دن کی مدت دی گئی ہے۔ اس لیے جلد از جلد حلف نامہ جمع کرانا ضروری ہے تاکہ عملدرآمد یقینی ہو سکے۔

5. عدالتی ہدایات پر عمل:

اگر ہائی کورٹ اضافی ثبوت طلب کرے، تو فوری طور پر متعلقہ محکموں (جیسے پی ٹی سی ایل یا پی ٹی ای ٹی) سے رجوع کریں اور دستاویزات حاصل کریں۔

6. مکمل تعاون:

ہائی کورٹ کے عملے یا جج کے ساتھ مکمل تعاون کریں، اور اگر کوئی پوچھ گچھ ہو، تو مسعود بھٹی کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا موقف واضح کریں۔

یہ حلف نامہ اور رہنما اصول آپ کے کیس کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ قانونی عمل کو مؤثر طریقے سے فالو کیا جائے۔


Comments

Popular posts from this blog

Article-173 Part-2 [Draft for non VSS-2008 optees PTCL retired employees]

.....آہ ماں۔

Article-170[ Regarding Article -137 Part -1 in English]