Posts

انصاف کی دیوی

Image
جھاں انصاف نہیں وہاں امن نہیں .... عدالتوں میں انصاف کی دیوی کا مجسمہ تو سبھی نے دیکھا ہوگا بھلے فلموں میں ہی سہی ..دراصل یہ محض مجسمہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے جو ساری دنیا کو عدل و انصاف کا پیغام دیتی ہے. رومن کی دیوی کے نام پہ اس انصاف کی دیوی کو بنایا گیا جس کا نام "جسٹسیا" تھا , اس کے علاوہ گریک یونانی عورت تھیمس اور اسی طرح مصر میں بھی انصاف کی دیوی کے متعلق لکھا گیا ہے .... جس کی آنکھوں پہ کالی پٹی بندھی ہوتی ہے جو ایک ہاتھ میں تلوار, دوسرے ہاتھ میں ترازو پکڑے پیروں تلے سانپ کو کچل رہی ہوتی ہے اور ہر علامت کے پیچھے ایک پیغام ہے  میزان کا مطلب سچ اور جھوٹ کا فیصلا ثبوتوں کے وزن پہ کرنا,  تلوار کا مطلب انصاف کی دیوی قانون کا صرف فیصلہ ہی نہیں کرتی بلکہ اس کو نافذ کرنے کا اختیار طاقت بھی رکھتی یے  پیروں میں سانپ کو کچلنے سے مراد ہر شیطانی برائی کو دبوچنا ہے  آنکھوں میں بندھی پٹی کا مقصد انصاف کی دیوی یہ نہیں دیکھا کرتی کہ اُس کے آگے کون کھڑا ہے اپنا , پرایا یا کس بھیس میں کتنا طاقتور ہے  یہ دیوی تو اندھی ہے جو صرف اور صرف ثبوتوں کی بنیاد پہ فیصلا کرتی ہے .. جس...

کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟

دنیا زندان بنی اور زندان میں تاریکی بڑھی تو خونِ دل میں انگلیاں ڈبو کر فیض نے تو برسوں پہلے یہ شعر نجانے کس ترنگ میں کہہ ڈالا تھا، لیکن اپنے ارد گرد نظریں دوڑائیں تو موجودہ صورتحال میں آج کا معاشرہ اس شعر کے قالب میں مکمل طور پر رنگا اور ڈھلا نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیض نے یہ شعر آج کے معاشرے اورموجودہ صورتحال کے تناظر میں ہی کہا ہوگا۔ آج معاشرے کی ہر اکائی اور ہر جزو کے ہونٹوں پراُس شاعرِ انقلاب کا بس یہی شعر متبسم دکھائی دیتا ہے۔ اور ایسا بھلا آخر کیوں نہ ہو؟ جب ڈاکٹر دکھی انسانیت کی مسیحائی کرنے کی بجائے علاج کو اپنے فیس کے ترازو میں تولیں، جب جراح زخموں پر پھاہا رکھنے کی بجائے اُنہیں ناسور بنانے کے در پر ہوں، جب اسپتالوں میں شفا کی بجائے بیماریاں پل رہی ہوں، جب حکیم ، وید، دانا اور سیانے نبض کی بجائے مریض کی جیب پر نظریں گاڑ کر بیٹھ جائیںتو بتائیے کہ ....ع کسے وکیل کریں کس سے  منصفی چاہیں؟ جب جب ایک استاد نئی نسل کوآداب، اخلاق اور تعلیم کے زیورسے آراستہ کرنے کی بجائے اُن کی رگوں میں منافرت، منافقت، ہوس اور جہالت کا سبق اتارتا رہے گا۔۔۔ جب جب ایک مدرس تدریس کو ...

Article-161[Regarding my tweet of dated 22-1-2023 to HCJ]

 My tweet of dated 22-01-2023 to HCJ https://twitter.com/mtazhar/status/1617793045751291904?s=61&t=jg2LJ00lq-UKosH6RDBZ2g Here is the text of appeal attached in the tweet An appeal of aggrieved  PTCL Pensioners Petitioners to the most  respected hon'ble Chief Justice of Pakistan  Mr Justice Umar Atta Bandial Sb    The aggrieved thousand PTCL pensioners  petitioners make a most courteous and compassionate appeal to respected hon'ble Chief Justice of Pakistan  for issuing order for  hearing the appeals  filled by PTCL & PTET, pending in HSCP,  since from  December 2021.Which are filled against the decision of the Division Bench of  IHC of dated 2nd November 2021 ,which held that   all such PTCL Pensioners Petitioners,  retired normally and  at superannuation age of sixty years and who fall within the category of section 2(1)(b) of the definition of civil servant of  in the Civil Servants Act, 1973...

Pakistan's justice system is the worst justice system in the world

   تین  تاریخی فیصلے !! جج خود نہیں بولتے، ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ یہ ایک پرانی کہاوت ہے۔ مگریہ کہاوت آج دنیا بھر کی عدلیہ کا ایک مسلمہ اصول ہے۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں گنتی کے چند فیصلے ایسے ہوں گے جن کو تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد کرتی ہے ، یہ وہ فیصلے ہیں جنکو ہمارے سلیبس کا حصہ ہونا چاہیے ، لیکن یہاں تو سیلبس بھی سچ اور حقائق پڑھانے کی بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کو مد نظر رکھ کر بنایا جاتا ہے !�کیونکہ ہماری عدالتی تاریخ بھیانک فیصلوں سے بھری پڑی ہے، جیسے چیف جسٹس منیر کا فیصلہ ، بھٹو قتل کیس ، نوازشریف نااہلی کیس ، لاپتہ افراد کیسز، تمام مارشل لاز کو قانونی چھتری مہیا کرنا مطلب نظریہ ضرورت ہمیشہ ہمارے عدالتی نظام پر قابض رہا جس وجہ سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا! مولوی تمیز الدین کیس ! مولوی تمیزالدین کیس کا فیصلہ پاکستان کی آئینی، سیاسی اور عدالتی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ ہے۔ اس فیصلے نے پاکستان کی تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ اس کہانی کا آغاز 1953سے ہوتا ہے، جب گورنر جنرل غلام محمد نے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو ہٹا کر محمد علی بوگرہ کووزیر اعظم بنا دی...

Article-160[ Regarding HSCP order of dated 6th October 2022 on the appeal of VSS Non Pensioners, which has been dismissed ]

 Article-160[ Regarding HSCP order of dated 6th October 2022 on the appeal of VSS Non Pensioners, which has been dismissed ] [Attention all such VSS Retired Non Pensioners ، appointed in  T&T Department or in PTC ] موضوع  :  وی   ایس   ایس   نان   پنشنرز   اپیلنٹس   کے   خلاف     سپریم   کوڑٹ   کے  ۶   اکتوبر  ۲۰۲۲   کےفیصلے   کا   معاملہ   جو   مسترد   کردی   گئیی . . . . .  ایک   نہایت ھی   غلط   فیصلہ عزیز دوستو اسلام و علیکم  آج سے تقریبن ۲ ماہ قبل  ۳ نومبر ۲۰۲۲  ڈیڑھ بجے  دوپہر   کے قریب مجھے واٹس ایپس پر جناب خالد شیرازی صاحب، سابق ڈویژنل انجینئیر ہی ٹی سی ایل ، جو خو دبھی ایک وی ایس ایس -۲۰۰۸ نان پینشنر ھیں ، کی طرف سپریم کوڑٹ کے   اپیلنٹس نان پنشنرس وی ایس ایس ریٹائیڑڈ پی ٹی سی ایل ملازمین کے خلاف 6 اکتوبر 2022 فیصلے کی پی ڈی ایف کاپی  موصول ھوئی[ اس فیصلے کی کاپیوں کے اسکرین شاٹس میں نے نیچے پیسٹ ...

Special Article :- [ A Great Tribute to Muhammad Waliullah Khan (Tamgha Imtiaz, Tamgha Pakistan & Satara-e- Pakistan ) , a Renowned Archaeologist, Ex-Director Archeological & Conservation, Department of Archeology Government of Punjab Pakistan]

Image
        مرحوم نانا  جناب محمد ولی اللہ خان  صدر پاکستان جنرل ضیاالحق مرحوم  سے ستارا امتیاز  پاکستان موصول کرتے ھوئیے                            نوٹ:-  میں  نے  اپنے  عظیم مرحوم نانا  جناب محمد ولی اللہ خان ، ایک عظیم شخضیت اور معروف ماھر آثار  قدیمہ کے بارے میں   8 ستمبر 2022   کو ایک  آڑٹیکل تحریر کیا تھا جن میں انکے  مختصرن کار ھائیے نمایاں بیان کئیے تھے ۔ اب یہ اسپیشل آڑٹیکل میں انکو خراج تحسین پیش کرنے کے لئیے تحریر کررھا ھوں   انکے  عظیم کردار اور پاکستان میں آثار قدیمہ کے تحفظ کے  لئیے انکی  بہت سی ناقابل فراموش کاوشیں اور کار ھائیے نمایاں  کو اجاگر کررھا ھوں جو میرے علم میں  لائی گئیں ھیں اور  ساتھ ساتھ انکی ایک  مختصر سوانح حیات  ( biography) اور  اپنے ساتھ کی انکے  بیتے ھوئیے لمحات   ، کی یادیں اور باتیں بھی  قلمبند کررھا ھوں ، جو میرے لئیے ایک سرمایہ کی ح...