Article-224[ Regarding the judgement of SC dated 10th July 2025]

 Article-224[ Regarding the judgement of SC dated 10th July 2025]


نوٹ :  کارپوریشن میں بھرتی ھونے  ملازمین اور وی ایس ایس 2008 کے تحت ریٹائیڑڈ ھونے والوں کی پریشانیاں . . وہ سمجھتے ھیں کے سپریم کوڑٹ کے 10 جولائی 2025 کے فیصلے کے تحت جو لوگ وی ایس ایس لیکر ریٹائیڑڈ ھوئیے  اور جو کارپوریشن میں بھرتی ھوئے وہ اس گورمنٹ پنشن انکریزز کے حقدار نھیں ایسی کوئی بات نھیں ۔وہ یقینن حقدار ھیں کیونکے سب  ٹی اینڈ ٹی سے کارپوریشن ٹرانسفڑڈ ھوتے وقت سول سرونٹ تھے۔ PTC Act 1991 کے سیکشن  (1)9 کے تحت کارپوریشن میں انپر وھی گورمنٹ کے قوانین نافظ عمل تھے جو انپر انکے کارپوریشن میں ٹرانسفڑڈ سے فورن پہلے ٹی اینڈ ٹی گورمنٹ ڈیپاڑٹمنٹ میں ان پر نافظ  تھے یعنی گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے قوانین کا اطلاق ھورھا تھا۔PTC Act 91 کا اطلاق 27 نومبر 1991 سے ھو ا تھا  اور ٹی اینڈ کے سارے ریگولر ملازمین کو جن کو کارپوریشن میں ڈیپاڑٹمنٹل ملازمین ، اس ایکٹ 91 کے سیکشن  (e)2 کے تحت بنادیا گیا تھا۔ کارپوریشن کے اپنے کوئی بنائیے ھوئیے قوانین نھیں تھے اسلئیے کارپوریشن وھی قوانین اور پروسیجر اپنا لیا تھا جو  ان پر ٹی اینڈ ٹی میں لاگو تھے۔  اور جو  لوگ ڈائیریکٹ کارپوریشن میں ریگولر بھرتی ھورھے تھے  تھے ان پر بھی تمام پر گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنے ھوئیے قوانین کا ھی اطلاق ھورھا تھا جس کو Statutory  Rules کہتے ھیں ۔اس لہئے کارپوریشن میں بھرتی ھونے والے ریگولر اییملائیز بھی ریٹئیرمنٹ پر گورمنٹ کی ھی پنشن کے حقدار ھیں جبکے انکی ریٹئیرمنٹ کمپنی میں ٹرانسفڑڈ ھونے کے بعد کیوں ھی نہ ھوئی ھو ۔ 

یہ ھی بات سمجھانے کے لئیے یہ میں  نے تفصیلی  مضمون لکھا ھے اور اسی کی بابت آپ سب لوگوں کو اپنے آئیڈیو میسج سے بھی سمجھا چکا ھوں۔میں نے اسمیں چیف جسٹس یحیئ آفریدی کا  ججمنٹ اور حکم  کے کس کی اپیلیں ڈسمس ھوئیں اور کی ریمانڈ بیک وغیرہ وغیرہ اس ھر ایک کے متعلق اپنا نوٹ بھی دیا ھے

میرے اس مضمون کو آخیر تک ضرور پڑھیےگا۔ اس میں آپ لوگوں کے فائدے کی بات ھے یعنی ان  پی ٹی سی ایل میں کام کرنے والے  ٹرانسفڑڈ ملازمین کی اور ریٹائیڑڈ ھونے والے ایسے ملازمین کے بارے میں چاھے وہ کسی بھی طریقہ کار  سے کیوں نہ ھی  ریٹائیزڑڈ ہئوے ھوں.شکریہ

(طارق)


30 July 2025

عزیز پی ٹی رسی ایل ساتھیو

اسلام و علیکم 

مجھے بہت سے ایسے  پی ٹی سی ایل دوستوں کے جو وی ایس ایس لیکر ریٹائڑڈ ھوئیے ھیں فون آرھے ھیں اور وہ یو ں پریشان ھیں کے چونکے وہ لوگ وی ایس ایس لیکر ریٹائیڑڈ ھوئیے تو وہ سپریم کوڑٹ کے 10 جولائی 2025 کے فیصلے کے تحت گورمنٹ کی پنشن لینے کے حقدار نھیں۔  اسی طرح جو لوگ کارپوریشن میں بھرتی ھوئیے   وہ بھی بہت پریشان ھیں کے وہ اس فیصلے کے مطابق پنشن کے حقدار نھیں ۔ایسی کوئی بات نھیں انکو کوئی پریشانی کی ضرورت نھیں ھے میں آگے چل کر انکو سمجھاؤں گا وہ کیسے اس گورمنٹ کی پنشن کے حقدار کیوں ھیں ۔

یہ تو آپ سب جان ھی چکے ھوں گے کے 10 جولائی 2025 کو سپریم کوڑٹ کا تین ممبرز بینچ فیصلہ 2:1 کی نسبت سے پی ٹی سی ایل پنشنرز پٹیشنرز  اور پی ٹی سی ایل ملازمین پٹیشنرز کے حق میں آیا ھے۔ ان  تین ممبر ججز میں جناب محترم چیف جسٹس یحی آفریدی اور جسٹس امین الدین خان نے  تیسری ممبر  جج  جسٹس محترمہ عائیشہ ملک کی اس ججمنٹ سے اختلاف کیا  کیونکے  ججمنٹ کی آتھر جج  ھیں یعنی محترمہ جسٹس عائیشہ ملک تھیں، جو انھوں نے پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی کے حق میں دیا تھا اور انکی تمام اپیلیں منظور کرلیں ۔مگر  چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے  نے انکی اس ججمنٹ سے بیحد اختلاف کیا اور  پی ٹی سی ایل پنشرز اور پی ٹی سی ایل ملازمین ، جو سب یہاں ریسپونڈنٹ تھے ، فیصلہ انکے حق میں دیا مگر جن وی ایس ایس لیکر ریٹئڑڈ ھونے والوں کی اپیلیں جو انھوں نے ھائی کوڑٹ کے فیصلے کے خلاف کی تھیں ، وہ ڈسمس کردیں ۔ جہاں تک میں سمجھتا ھوں یہ وہ وی ایس ایس  لیکر ریٹئیڑڈ ھونے والوں کی اپیلیں تھیں جو 2012, 2014    اور 2016 ایک معاھدے اور شرائیط قبول کرکے وی ایس ایس لینا قبول کیا تھا۔وی ایس ایس 2008 کے کیسس تو ابھی سپریم کوڑٹ میں چلنے ھیں کیونکے سپریم کوڑٹ نے یہ تمام کیسس  ان ھائی کوڑٹوں میں ریمناڈ بیک کے لئیے بھجوادئیے تھے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی اس  ججمنٹ  کی توثیق  معزز جج جسٹس  جسٹس امین الدین خان  نے بھی جب ھی تو اسکا فیصلہ ۲  اور  ۱ کی نسبت سے پی ٹی سی ایل پنشنرز اور ملازمین کے حق میں آیا ۔ جسٹس یحیئ آفریدی کی ججمنٹ اور فیصلہ ان ٹرانسفڑڈ کارپوریشن کے ملازمین کے حق میں ھے , جو کارپوریشن سے  ٹرانسفڑڈ ھوکر یکم جنوری 1996 کو کمپنی کا حصہ بن گئیے تھے۔ انھوں نے جو فیصلہ لکھا اسکا اردو ترجمعہ  زیر پیش ھے۔ جب آپ لوگ یہ پڑھ لیں گے تو اچھی طرح آشکارا ھوجائیں گے اور آپ کو 10 جولائی 2025 کو سپریم کوڑٹ کے فیصلے کی جو  ان کمپنی پی ٹی سی ایل ٹرانسفڑڈ  ملازمین کے حق میں دی ھے اسکی آفادیت معلوم ھوجائیگی


اردو ترجمعہ

25.چیف جسٹس یحییٰ آفریدی: 

1. مجھے جسٹس عائشہ اے ملک کی تحریر کردہ فیصلہ پڑھنے کا موقع ملا۔ -اُن کی اختیار کردہ رائے اس بنیاد پر ہے کہ وہ ملازمین جنہیں وفاقی حکومت کے ٹیلیگراف اینڈ ٹیلیفون ڈیپارٹمنٹ ("ٹی اینڈ ٹی") سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن ("پی ٹی سی")، اور بعد ازاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ ("پی ٹی سی ایل") کو منتقل کیا گیا، وہ سول سرونٹ کی حیثیت برقرار نہ رکھ سکے، جیسا کہ پانچ رکنی بینچ کے فیصلے میں (پی ٹی سی ایل بنام مسعود احمد بھٹی وغیرہ، 2016 ایس سی ایم آر 1362) ("مسعود احمد بھٹی ریویو ججمنٹ") میں طے کیا گیا۔ اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ایسے ملازمین سول سرونٹس کی طرح پنشن کے فوائد کا دعویٰ نہیں  سکتے   

2. میں انتہائی ادب کے ساتھ اس نتیجہ سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ قانون کی رو سے یہ بات طے شدہ ہے کہ ملازمین نے ٹی اینڈ ٹی سے پی ٹی سی اور بعد ازاں پی ٹی سی ایل کو منتقلی کے بعد سول سرونٹ کا درجہ کھو دیا، لیکن میری رائے میں صرف یہ بات ان کے حاصل شدہ اور محفوظ پنشنری حقوق کو ختم نہیں کرتی، خاص طور پر اس حقیقت کے پیش نظر کہ ایسے ملازمین کو ایک قانونی فریم ورک کے تحت منتقل کیا گیا تھا جس نے ان کی سروس کی شرائط و ضوابط کو صراحتاً تحفظ دیا تھا۔

3. میری اختلافی رائے تین بنیادی نکات پر مبنی ہے: اول، قانونی دفعات کی غلط تشریح؛ دوم، مسعود بھٹی ریویو ججمنٹ کا غلط اطلاق؛ اور سوم، سول سرونٹس اور ورکمین کے درمیان فرق کو بلاجواز مسترد کرنا۔ اب میں ان تینوں نکات پر باری باری بات کروں گا۔

اہم قانونی دفعات کی غلط تشریح:

4. اس سے پہلے کہ ہم پی ٹی سی ایل کے ملازمین کی سروس شرائط و ضوابط سے متعلقہ قانون سازی کے مقصد اور دائرہ کار کا جائزہ لیں، یہ جاننا ضروری ہوگا کہ پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر (یعنی "سیکٹر") کی تاریخی ترقی کیا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر، یہ سیکٹر ٹی اینڈ ٹی کے تحت ایک عوامی خدمت کے طور پر کام کرتا تھا۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں، حکومتِ پاکستان نے اس سیکٹر کی مرحلہ وار تنظیمِ نو کا آغاز کیا۔ پہلا قدم کارپورٹائزیشن تھا، جس میں ٹی اینڈ ٹی کے افعال اور ملازمین کو ایک نئی قانونی کارپوریشن، یعنی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (پی ٹی سی) میں منتقل کیا گیا، جس کا قیام "پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن ایکٹ، 1991" (پی ٹی سی ایکٹ) کے تحت عمل میں آیا۔ دوسرا قدم نجکاری تھا: جس میں پی ٹی سی کو ایک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا گیا، "پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) ایکٹ، 1996" (پی ٹی سی ایل ایکٹ) کے تحت، جو اس کی نجی شیئر ہولڈرز کو منتقلی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا تھا۔ اس تبدیلی نے لازمی طور پر سرکاری ملازمین کو حکومتی ملازمت سے کارپوریٹ ملازمت کی طرف منتقل کیا، اور اس منتقلی کے قانونی و ادارہ جاتی اثرات، خصوصاً سروس کی شرائط و ضوابط کے حوالے سے، بہت اہم اور دور رس تھے، کیونکہ ملازمین کو نسبتاً محفوظ سرکاری ملازمت سے ایک کارپورٹائزڈ اور بعد ازاں نجی ماحول میں منتقل کیا گیا۔

5. ملازمین کی منتقلی کے حوالے سے، قانونی فریم ورک کا مقصد یہ تھا کہ ہر مرحلے پر ملازمین کے حقوق کا تسلسل برقرار رکھا جائے اور انہیں تحفظ دیا جائے۔ اس سلسلے میں، پی ٹی سی ایکٹ اور پی ٹی سی ایل ایکٹ کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مسلسل قانون سازی کے فریم ورک کا حصہ سمجھنا چاہیے، جہاں ہر قانون ایک ہی ادارہ جاتی تنظیمِ نو کے مختلف مرحلے کو مخاطب کرتا ہے۔ اس تناظر میں، کسی ایک قانون کے دوسرے کو منسوخ کرنے کا امکان خارج از امکان ہے۔ اس کے برعکس، دونوں قوانین کے درمیان ایک واضح باہمی ربط سامنے آتا ہے: پی ٹی سی ایکٹ اور پی ٹی سی ایل ایکٹ کی دفعات کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک متحد اور مربوط نظام کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔ لہٰذا، ان قوانین سے حاصل ہونے والی دفعات کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ اور مشترکہ قانون سازی کے مقصد کے مطابق سمجھا جانا چاہیے۔

6. مذکورہ بالا قانون سازی کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے، اب ہم ان مخصوص دفعات کا جائزہ لیتے ہیں جو ملازمین کی ٹی اینڈ ٹی سے پی ٹی سی، اور بعد ازاں پی ٹی سی ایل کو منتقلی کو منظم کرتی ہیں۔

7. پی ٹی سی ایکٹ 1991کی دفعہ 9(1) اور 9(2) ان ملازمین کی ٹی اینڈ ٹی سے پی ٹی سی کو منتقلی کے لیے درج ذیل قانونی طریقہ کار فراہم کرتی ہیں:


خلاصہ یہ ہے کہ میری سوچ اور غور و خوض کے بعد یہ رائے ہے کہ وہ ملازمین جو ٹی اینڈ ٹی سے پی ٹی سی اور بعد ازاں پی ٹی سی ایل کو منتقل کیے گئے، انہوں نے نہ صرف پنشن کے فوائد کا حق برقرار رکھا بلکہ ان حقوق کی نوعیت بھی متحرک اور ترقی پذیر رہی۔ اگرچہ وہ سول سرونٹ کی حیثیت سے کام کرنا بند کر چکے تھے، مگر ان کی منتقلی سے متعلق قانونی فریم ورک نے ان کے پنشن کے مکمل حقوق کی ضمانت دی — نہ کہ بطور منجمد مراعات جو منتقلی کے وقت پر مقرر ہو گئی ہوں، بلکہ بطور زندہ حقوق جو وقت کے ساتھ دیگر مساوی سرکاری ملازمین کے مطابق ترقی کرتے رہیں۔


پی ٹی سی ایکٹ 1991 کی دفعہ 9 اور پی ٹی سی ایل ایکٹ 1996 کی دفعہ 36 کے تحت ترتیب دی گئی اسکیم ان حقوق کے تسلسل کی ضمانت دیتی ہے، اور پی ٹی سی ایل ایکٹ کے تحت جو انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا — جس میں پی ٹی ای ٹی (PTET) کا قیام شامل ہے — اس کا مقصد اس ضمانت کی تکمیل تھا، ناکہ اس میں رکاوٹ ڈالنا۔ پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی پر یہ قانونی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان پنشنری حقوق کی مکمل ادائیگی کو یقینی بنائیں، اور کسی بھی ایسی تشریح جو ان حقوق کو جامد یا صوابدیدی ادائیگیوں میں تبدیل کرے، وہ قانون ساز ادارے کے مقصد کے منافی ہے۔

مزید برآں، اس فیصلے کے اختتام پر یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ یہ نتیجہ اور فیصلے پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی کی طرف سے پیش کردہ مالی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں دیے گئے۔ مالی بوجھ اور مالی طور پر عدم پائیداری سے متعلق نکات پر غور کیا گیا ہے۔ تاہم، مالی مشکلات کسی قانونی ادارے کو اس کی قانونی ذمہ داریوں سے بری نہیں کرتیں۔ اگر موجودہ پنشن ماڈل اس مالی بوجھ کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہے، تو ماڈل کو دوبارہ ترتیب دینا ہوگا، نہ کہ قانونی حقوق کو محدود کرنا۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی کی جانب سے بتائی گئی عملی دشواریاں حقیقی ہیں، اور یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ ادائیگی کے لیے سخت ٹائم لائن مالی طور پر ممکن نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا، پی ٹی سی ایل کو اپنے سابق سول سرونٹ ملازمین کے متعلق مالی ذمہ داری تسلیم کرنی چاہیے اور اسے اپنے مالی ریکارڈز میں بطور واجب الادا ذمہ داری ظاہر کرنا چاہیے، جیسا کہ متعلقہ اکاؤنٹنگ اور کارپوریٹ قوانین کے تحت درکار ہے۔ اس کے بعد، پی ٹی سی ایل، پی ٹی ای ٹی کے ذریعے پنشن میں ترمیم شدہ ادائیگیوں کے لیے قابلِ عمل نظام الاوقات کا تعین کر سکتی ہے۔ یہ تمام اقدامات 90 دن کے اندر مکمل کیے جائیں، اور ادائیگی کا عمل شروع کیا جائے۔

[نوٹ: محترم جناب چیف جسٹس پاکستان نے بلکل یہ واضح کردیا کے پی ٹی سی ایل میں کام کرنے والے ٹرانسفڑڈ ملازمین جو  ٹی اینڈ ٹی اور کارپوریشن کے ملازم تھے۔ ان سب پر  گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے  قوانین کا اطلاق ھوتا ھے ۔کمپنی انکو گورمنٹ کی اعلان کردہ ، اپنے سرکاری ملازمین، والی تنخواھوں کا گورمنٹ والے اسکیل کے مطابق اور ریٹائیڑڈ ملازمین کو تنخواہ اور پنشن ادا کرنے کے پابند ھیں۔اور انھوں نے ادئیگیوں کو نوے دن کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا اور انھوں نے پی ٹی سی ایل کے اس جواز کو بھی مسترد کردیا کے انکے پاس ادائیگیوں کے لئیے مناسب رقم نھیں ھے۔اور جو حکم انھوں دیا وہ زیر پیش ھے]


فیصلہ

  محترم جناب چیف جسٹس پاکستان  فرماتے ھیں کے میں  مندرجہ بالا وجوہات کی بنیاد پر میں جسٹس عائشہ ملک کے فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں، اور فیصلہ کرتا ہوں کہ:

بیان کردہ وجوہات کی بنیاد پر، میں مؤدبانہ طور پر مندرجہ ذیل قرار دیتا ہوں:

CPLA نمبر 412، 420-424، 461-463، اور 506/2019؛ CPLA نمبر 242-K، 857-K، اور 954-K/2019؛ CPLA نمبر 6005، 6006، 6023-6030، 6087-6096، 6101-6106، 6266-6274، اور 6364/2021، 6543-6545/2021؛ اور CPLA نمبر 134-135/2022 کو خارج کیا جاتا ہے۔

ہائی کورٹ کے زیرِ بحث فیصلے اتنی حد تک برقرار رکھے جاتے ہیں کہ وہ صرف ان ملازمین کو پنشن میں ترمیمات (ریویژن) دیتے ہیں جو منتقلی کے وقت سول سرونٹ تھے۔ ایسے ملازمین کو پنشن کے تسلسل کا حق حاصل ہے، بشمول ان ترمیمات کے جو وفاقی حکومت کی طرف سے نوٹیفائی کی گئی ہوں۔


[نوٹ:- عدالت نے پی ٹی ای ٹی کی طرف سے دائر کردہ   مندرجہ بالا اپیلیں ( جو پیرا 25 کے نقط 1  پر ھیں)  ھیں جو انھوں نے ھائی کوڑٹوں کی طرف سے ریسپونڈنٹس  کے حق میں آنے فیصلوں کے خلاف کی تھیں ۔ ڈسمس کردیں اور ھائی کوڑٹوں کو گورمنٹ کی اعلان کردہ پنشن دینے کا حکم دیا ۔پی ٹی ای ٹی کی  طرف سے دائیر کردہ CPLAs کا پیشتر تعلق دسمبر 2021   میں دائیر کردہ سے ھے  جو انھوں نے اسلام آباد ھائی کوڑٹ کے ڈویژن بینچ کے اس فیصلے کے خلاف  دائیر کی تھیں تھیں یعنی 2  نومبر 2021 کے فیصلوں کے خلاف جسمیں ریسپونڈنٹس کو  پنشن دینے کا ریلیف فرمایا گیا تھا۔



میرے( محمد طارق اظہر) اور میرے 19 ساتھیو ں کے خلاف انکی انٹرا کوڑٹ اپیل نمبر ICA-98/2020 ، اسلام آباد کے ڈویژن بینچ نے 2 نومبر 2021   کو خارج کردیں  تھیں ۔ یہ اسلام آباد ھائی کوڑٹ کے سنگل بینچ کے  3 مارچ 2020  کو ھماری رٹ پٹیشن WP-4588/2018 قبول کرنے کے اس فیصلے کے خلاف  تھیں جسمی ھم پٹیشنروں  کو سول سرونٹ ھونے کے ناطے اور ساٹھ سال کی عمر میں نارملی ریٹئیڑڈ ھونے پر ، گورمنٹ کی اعلان کردہ اپنے سول سرونٹ والی پنشن اندر بمعہ واجبات دینے  دو مہینے کے اندر ادا کرنے کا حکم دیا تھا ۔ 

2 نومبر 2021 کے فیصلے کے خلاف یہ  پی ٹی ای ٹی نے دو CPLAs یعنی 6023/2021   اور 6095 دسمبر 2021  میں اس معزز عدالت عظمی میں دائیر کیں ۔ مگر حیرت انگیز طور ، شاھد انور باجواہ نے بجائیے اس  2 نومبر 2021  کے اسلام آباد ھائی کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے اس میں کوئی نقص نکالتے اور اسکو ثابت کرتے انھوں چند کے سامنے یہ دو سوال اٹھا دئیے 

1. کیا سپریم کورٹ کے 2016 SCMR 1362 میں رپورٹ کیے گئے فیصلے کے پیش نظر وفاقی حکومت کی طرف سےیکم جنوری ۱۹۹۱ کے بعد سرکاری ملازمین کی ملازمت کے شرائط و ضوابط میں کوئی تبدیلی لاگو ہے جو پہلے کے T&T ملازمین اب PTCL کے ملازمین ہیں؟

2. پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1991 کے سیکشن( 1)9  میں استعمال ہونے والے درآمدی الفاظ "اس طرح کی منتقلی سے پہلے حقدار تھے" کیا ہے؟

انکے یہ دو سوال پی ٹی سی ایکٹ 1991 کی سیکشن (1)9 کے بارے میں اٹھانا بزات خود بلکل غلط ھے کیونکے یہ مزکورہ قانون Pakistan Telecommunication (re-organization ) Act 1996 کے سیکشن (1)59 کے تحت پہلے ھی منسوخ ھوچکا ھے اور اس قانون کی اب کوئی بھی حیثیت نھیں ھے۔  

ایڈوکیٹ شاھد انور  باجواہ کا ایسے  سوال اٹھانے کا واحد مقصد ان ٹرانسفڑڈ ایمپلائیز  کو گورمنٹ کی اپنے سول ملازمین اور ریٹئیڑڈ ملازمین کے لئیے   اعلان کرد تنخواھوں میں  انکریزز ، پے سکیلز میں تنخواھوں میں اضافے جات، ھرسال ریٹائیڑڈ ملازمین کی پنشن میں انکریزز ، انکو دینے سے روکنا تھا کیونکے انکے خیال میں  تمام ٹی اینڈ ٹی کے ملازمین  جو دسمبر 1991 میں پی ٹی سی ایکٹ کے سیکشن (1)9  (جو اب منسوخ  ھوچکاھے) کے تحت ٹرانسفڑڈ ھوکر نئی اسٹیبلشمنٹ کارپوریشن میں آئیےتھے۔ جس  میں کہا گیا تھا  کے کارپوریشن میں ٹی اینڈ ٹی سے ٹرانسفڑڈ ھوکر آنے والے ڈیپاڑٹمنٹل ایمپلائیزک پر انھی سروس ٹرمز اور قوانین کا اطلاق کارپوریشن میں ھوگا  انکا کارپوریشن میں آنے سے فورن پہلے یعنی ٹی اینڈ ٹی میں تھا۔ نئی کارپوریشن یعنی پاکستان ٹیلیکام کارپوریشن جسکے اپنے کوئی بھی قوانین نھیں بنے  اسنے وہ تمام   ٹی اینڈ ٹی ڈیپاڑٹمنٹ  کے تمام سرکاری  قوانین  ، رولز اور پروسیجرز adopt  کر لئیے تھے ، جو ان کارپوریشن میں کام کرنے والے تمام ملازمین پر ، انکے ٹی اینڈ ٹی سے کارپوریشن آنے سے فورن پہلے نافزلعمل تھے  انپر ھی گورمنٹ والے پے اسکیلز نافز تھے انکو وھی تنخواھیں ، پنشن اور دیگر مراعات مل رھی تھیں جنکا اعلان گورمنٹ اپنے سول سرونٹس اور ریٹائیڑڈ سول سرونٹس کے لئیے کرتی رھتی  تھی۔ انپر گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھر قوانین کا اطلاق ھورھا تھا۔ انکو سول سرونٹ کی طرح اپنے grivences دور کرانے کے لئے  ، آئین پاکستان شق 199 کے تحت  ھائی کوڑٹوں سے رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ جب یہ تمام کارپوریشن کے ملازمین چاھے وہ ٹی اینڈ ٹی کے سابقہ ملازمین ھوں یا اس دوران  کارپوریشن میں بھرتی  ھوئیے ھوں   اور ان  تمام کارپوریشن کے ملازمین کو   یکم جنوری 1996 کو  پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹیڈ [PTCL]میں  ٹرانسفڑڈ کردیا گیا اور یہ سب  یکم جنوری 1996 سے اس کمپنی کے  تو ملازم بن گئیے ۔ مگر ان سب پر گورمنٹ کے Statutory Rules کا اطلاق ھورھا تھا جو گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ  19733 کے تحت بنائیے گئیے تھے جیسے Civil Servant(E& D ) Rules 1973 اور  and Promotion Civil Servant (Appointment, Transfer) Rules etc]


CPLA نمبر 2107، 2140، 2141، 2143، 2144، 2145، 2146، اور 2147/2022 کو خارج کیا جاتا ہے۔ زیرِ بحث فیصلے برقرار رکھے جاتے ہیں جو یہ تصدیق کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے نوٹیفائی شدہ پنشن ریویژن کا تسلسل جاری رہے گا۔

CPLA نمبر 2138، 2139، اور 2142/2022 کو اپیلوں میں تبدیل کیا جاتا ہے اور مشروط طور پر منظور کیا جاتا ہے، تاکہ متعلقہ ہائی کورٹ حقائق کی بنیاد پر اس بات کا تعین کرے کہ درخواست گزاران منتقلی کے وقت سول سرونٹ تھے یا نہیں۔ اگر یہ ثابت ہو کہ وہ اس وقت سول سرونٹ تھے، تو انہیں وفاقی حکومت کی طرف سے نوٹیفائی شدہ پنشن ریویژن سمیت پنشن کے تسلسل کا حق حاصل ہوگا۔

[نوٹ  :- یہ  مندرجہ بالاوہ اپیلیں  جو تمام پی ٹی ای ٹی کی طرف سے اگست 2022 میں دائیر کی تھیں ھیں جو مشروط طور پر منظور کی گئیں ھے انکو متعلقہ ھائی کوڑٹوں می  ریمانڈ بیک کردیا گیا تاکے اس بات کی تصدیق کی جاسکے درخواست گزار منتقلی کے وقت سول سرونٹ تھے یا نہیں۔میرا ذاتی خیال ھے، کے عدالت نے ان  پی ٹی ای کی طرف سے ان اپیلوں کو مشروط طور منظور کرکے ریمانڈ بیک کردیا کے انکو یہ شک پڑگیا تھا کے یہ لوگ ٹی اینڈ سے کارپوریشن ھوتے وقت شائید سول سرونٹ نھیں تھے[یہ ساری اختراع ، پی ٹی ای ٹی کے وکیل شاھد انور باجواہ  کی طرف سے عدالت میں نے انکی اسلام آباد ھائی کوڑٹ کے ڈبل بینچ کی  انٹرا کوڑٹ اپیلوں کی شنوائی کے    آغاز پر 6 جولائی    2021 کو کی گئی تھی   کے انکے بقول گریڈ 1 سے لیکر گریڈ 16 کے ٹی اینڈ ٹی اینڈ ٹی ملازمین سول سرونٹ کی کٹیگری میں نھیں آتے یہ سارے ورکمین ھوتے  ھیں کیونکے انکی اپنی  یونئین ھوتی ھے اور انکے لئیے لیبر کوڑٹیں ھوتی ھیں۔ اسلئیے وہ لوگ گورمنٹ کیی اعلان کردہ پنشن کے حقدار نھیں ھو سکتے جبکے گریڈ 17  یا اس سے اوپر والے سول سرونٹ جنکی اپائیٹمنٹ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے قوانین کے تحت کی جاتی ھے۔ اسلئیے یہ سب سول سرونٹ ھوتے اور یہ ھی صرف لوگ ھیں جو گورمنٹ کی اعلان کردہ پنشن کے حقدار ھوتے ھیں۔ ] در اصل پی ٹی ای ٹی کے یہ وکیل ، وکیل شاھد انور باجواہ چاھتے یہ تھے۔ کے کسی  نہ کسی  طرح اسلام آباد ھائی  کوڑٹ کا بینچ انکی ھاں میں ھاں ملائیے اور گریڈ 1 سے لیکر گریڈ 16 تک کے ٹی اینڈ ٹی کے ملازمین ورکمین ٹہرائئے ۔تاکے یہ لوگ گورمنٹ کی اعلان کردہ پنشن اضافہ جات، جو وہ گائیے بھاگائیے اپنیے سرکاری ملازمین کو انکی ریٹائیرمنٹ کے بعد دیتی رھتی ھے۔ اس سے محروم ھوجائیں بلکے اپنی طرف دی جائیے جو بھی بوڑڈ آف ٹرسٹی پی ٹی ای ٹی کا انکے لئیے اپروو کرے۔لیکن عدالت نے  گریڈ 1 سے لیکر گریڈ 16 تک کے ٹی اینڈ ٹی کے ایسے ملازمین کو ورکمین کو خود سے قرار نھیں دیا۔ بلکے عدالت نے تو اسی وقت وکیل شاھد انور باجواہ  سے استفصار کیا آپ نے مسعود بھٹی کیس ( یعنی مسعود بھٹی و دیگران بنام فیڈریشن آف پاکستان و دیگران جو 2012SCMR152 میں درج ھے] کی ھئیرنگ کے دوران اس تین رکنی بینچ کے سامنے کیوں نھیں اٹھایا تاکے عدالت عظمی اس پر بھی کوئی حکم جاری کردیتی جسطر انھوں نے اپیلنٹس کا سٹیٹس یہ ثابت کیا کے اپیلنٹس ٹی اینڈ ٹی اور پھر  کارپوریشن میں ٹرانسفڑڈ ھوکر بحیثیت سول سرونٹ کام کرھے تھے۔ جسپر  وکیل شاھد انور باجواہ عدالت کو بتایا کے جو 3اپیلنٹس یعنی مسعود بھٹی، نصیرالدین غوری  اور دلآویز تما م سول سرونٹس کی کٹیگری کے تھے یعنی گریڈ 17 اس سے اوپر کے اسلئیے انھوں نے یہ مسعلہ ، ورکمین ھونے کا یا نہ ھونے کا نھیں اٹھایا۔ عدلت کے سامنے انکے  وکیل شاھد انور باجواہ نے جھوٹ بولا کیونکے تین اپیلنٹس  سول سرونٹ تھے اسلئیے یہ مدعا نھیں   اٹھایا۔ جبکے حقیقت یہ ھے کے ،  ان تین اپیلنٹس  میں سے ایک   اپیلنٹ دالآویز  گریڈ 5 کا تھا اور باقی دونوں گریڈ 17 اور گریڈ 19 کے تھے جب ھی ڈبل بینچ اسلام آباد نے جو 2 نومبر2021  کو فیصلہ دیا کے پہلے سب ایسے ریسپونڈنٹ کی یہ تصدیق کرلی آیا وہ کارپوریشن میں ٹرانسفڑڈ ھوتے سول سرونٹ تھے یا نھیں تھے]


CPLA نمبر 6205، 6222-6228، 6255، 6332، 6333، 6358-6363، 6379، 6477، 6485، 6485-6506، 6555-6556/2021، اور CPLA نمبر 112-114، 118، 139-145، 239، 305-371، 465-471، 654/2022 کو اپیلوں میں تبدیل کیا جاتا ہے اور منظور کرتے ہوئے یہ طے کرنے کے لیے واپس بھیجا جاتا ہے کہ آیا ہر درخواست گزار منتقلی کے وقت سول سرونٹ تھا یا نہیں، اور اگر تھا تو پنشن ریویژن کا حق دیا جائے۔


CPLA نمبر 426-K/2019؛ CPLA نمبر 1919 اور 2066/2019؛ اور CPLA نمبر 369، 373، اور 603/2019 کو خارج کیا جاتا ہے۔

چونکہ درخواست گزاران نے VSS اختیار کیا تھا، وہ منتقلی کے وقت سول سرونٹ نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے کسی قانونی فریم ورک کے تحت سرکاری پنشن کی مراعات یا ترمیمات کے لیے کوئی قانونی حیثیت قائم کی تھی۔


[اس مندرجہ بالا پیرے کا مکمل تجزیہ جو  مصنوعی زھانت Al Grok نے یہ کیا ھے ]


پس منظر: یہ حصہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصہ ہے جو سی پی ایل اے نمبر 426-K/2019 سمیت دیگر کیسز کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس میں ان درخواست دہندگان کی اپیلوں کا ذکر ہے جنہوں نے وی ایس ایس (Voluntary Separation Scheme) کا فائدہ اٹھایا یا تبادلے کے وقت سول سرونٹس نہیں تھے، اور نہ ہی انہوں نے پنشن ترامیم کا کوئی قانونی دعویٰ ثابت کیا۔

وی ایس ایس لینے والوں کی اپیلوں کی مستردگی کی بناء: 

ان اپیلوں کو اس بنیاد پر مسترد کیا گیا کہ جن درخواست دہندگان نے وی ایس ایس کے تحت مستعفی ہو کر سروس سے علیحدگی اختیار کی، انہوں نے خود کو سول سروس کے دائرہ کار سے باہر کر لیا۔ وی ایس ایس ایک اختیاری علیحدگی کا پروگرام ہوتا ہے جس میں ملازمین کو معاوضہ دیا جاتا ہے لیکن اس کے بدلے ان کا سول سرونٹ کا درجہ ختم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، انہیں پنشن ترامیم کا استحقاق نہیں رہتا۔

1991 میں ٹی اینڈ ٹی سے کارپوریشن میں تبادلے کے وقت سول سرونٹ نہ ہونے کا معاملہ: فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر کوئی درخواست دہندہ 1991 میں ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف (ٹی اینڈ ٹی) سے کارپوریشن میں تبادلے کے وقت سول سرونٹ نہیں تھا، تو اسے بھی پنشن ترامیم کا فائدہ نہیں مل سکتا۔ یہ بات ہائی کورٹ میں ان کی سروس کی حیثیت کی تصدیق کے تابع ہے۔ اگر ثابت ہو کہ وہ اس وقت سول سرونٹ نہیں تھے، تو ان کی اپیل مسترد کی جا سکتی ہے۔

قانونی استحقاق نہ قائم کرنے کی وجہ: تیسرے نکتہ کے طور پر، اگر انہوں نے قانونی فریم ورک کے تحت پنشن ترامیم کے لیے کوئی واضح استحقاق قائم نہیں کیا—جیسے کہ دستاویزات یا نوٹیفکیشن کے ذریعے—تو بھی ان کی دعوے کو مسترد کیا گیا۔ یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے سول سرونٹ سٹیٹس اور پنشن کے دعوے کو قانونی طور پر ثابت کرتے۔

نتیجہ: 

ان وی ایس ایس لینے والوں کی اپیلوں کو اس لیے مسترد کیا گیا کہ یا تو انہوں نے خود سول سروس سے علیحدگی اختیار کی، یا 1991 کے تبادلے کے وقت ان کی سول سرونٹ کی حیثیت مشکوک تھی، یا انہوں نے قانونی استحقاق ثابت نہ کیا۔ اگر ہائی کورٹ میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ 1991 میں تبادلے کے وقت وہ سول سرونٹس نہیں تھے، تو انہیں پنشن ترامیم کا فائدہ نہیں ملے گا، خاص طور پر اگر انہوں نے وی ایس ایس قبول کیا ہو۔

[ نوٹ : میں یہ سمجھتا ھوں یہ ان وی ایس ایس لے کر ریٹائیڑڈ لینے والوں کے لئیے ھے جنھوں نے وی ایس ایس 2012, 2014 اور وی ایس ایس 2016 شرائط کے ساتھ قبول کیا تھا جسمیں  میں انکو تین آپشن دئیے گئیے تھے

اب جن وی ایس ایس 2008  لے کر ریٹئیڑڈ ھونے والوں کی  اپیلیں گورمنٹ کے پنشن لینے کے لئیے صرف اسلئیے خارج کی گئیں ھیں  کے وہ ٹی اینڈ ٹی سے 1991 کارپوریشن سول سرونٹ  نھیں تھے، یہ بلکل غلط ھے کیونکے جو  تمام ٹی اینڈ ملازمین    ٹی اینڈ ٹی سے ۱۹۹۱ میں بننے والی گورمنٹ کارپوریشن میں ٹرانسفڑڈ ھوکر جارھے تھے  جب  ٹی اینڈ ٹی ڈیپاڑٹمنٹ تحلیل ھو چکا تھا  جسمیں وہ کام کرتے تھے  اسمیں وہ سول سرونٹ ھی کہلاتے تھے۔ اسلئیے لازمن و کارپوریشن میں ٹرانسفڑڈ ھوتے وقت سول سرونٹ ھی تھے۔ اور اس چیز کو سپریم کوڑٹ نے مسعود بھٹی کیس یعنی Masood Bhattie & etc Vs FoP& etc (2012SCMR152)  جو تین رکنی بینچ نے 7 اکتوبر 2011 دیا اس میں ثابت کیا اور بجا طور پر واضح کردیا تھا ( پیرا گراف 7 اور 8 میں ) کے اپیلنٹز ٹی اینڈ ٹی میں بطور سول سرونٹ کام کررھے تھے اور انپر گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ 1973  کے تحت سول سرونٹ کے لئیے بنائیے ھوئیے قوانین کا اطلاق ھورھا تھا اور انھیں Statutory Rules کا اطلاق  کاپوریشن میں بھی انپر ھورھا تھا۔ کیونکے کارپوریشن کے اپنے کوئی رولز نھیں تھے انھوں نے ان ھی  سول سرونٹ کے سروس ٹرمز اینڈ کنڈیشنس قوانین کو اپنا رکھا تھا جو  ان پر ٹی اینڈ میں انکے کارپوریشن میں ٹرانسفڑڈ ھونے سے پہلے  ان پر نافظ تھے اور یہ ھی قوانین انپر ، انکی یکم جنوری 1996 کو انکے کارپوریشن سے کمپنی پی ٹی سی ایل میں بھی نافظ تھے۔ انپر کمپنی کے ماسٹر اینڈ سرونٹ والے قوانین کا اطلاق نھیں ھوتا تھا  جبکے یہ ماسٹر اینڈ سرونٹ والے قوانین کا اطلاق صرف ان کمپنی کے ملازمین پر ھوتا تھا جنھوں نے  یکم جنوری 1996 کے بعد کمپنی کو جائین کیا تھا چاھے کیسے ھی کیوں نہ کیا ھو .ان  میں جو  اپیلنٹ مسعود بھٹی سابق ڈائیریکٹر (B-19) پی ٹی سی ایل کراچی ساؤتھ بھی تھے جو مارچ 2008  میں VSS-2008 لیکر ریٹائیڑڈ  ھوئیے تھے ۔ تو ان پر بھی انھی  Statutory Rules 


کا اطلاق  ھورھا اور عدالت نے انکے لئیے یہ حکم جاری کیا تھا کے انکے خلاف سندھ ھائی کوڑٹ کے دورکنی بینچ ( جو سابق جج جسٹس گلزار احمد ( سابقہ چیف جسٹس پاکستان اورسابق جج جٹس شاھد انور باجواہ (حالیہ پی ٹی ای ٹی اور پی ٹی سی ایل کا وکیل)  نے 6 جون2010 انکی طرف سے دائیر کردہ صرف اسلئیے مسترد کردیں تھیں کے وہ سب کمپنی کے ملازم تھے جن پر ماسٹر اینڈ سرونٹ کا اطلاق ھوتا تھا اور انکو یہ بلکل اختیار نھیں کے وہ اپنے grievances  دور کرنے کے لئیے آئین کے آڑٹیکل 199 کے تحت ھائی کوڑٹوں سے رجوع کریں۔ یہ حق تو صرف سول سرونٹ کا ھوتا ھے جن پر گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ کے تحت بنائیے ھوئیے قوانین کا اطلاق ھوتا ھے ، وہ یہ سمجھیں انکی رٹ پٹیشن ابھی تک سندھ ھائی کوڑٹ میں پینڈنگ پڑی ھے۔ وہ پہلے اپنے grievances  وھیں سندھ ھائی کوڑٹ سے دور کرائیں اور پھر وہ انکے فیصلے سے مطمئن نہ ھوں تو پھر ھی وہ سپریم کوڑٹ سے رجوع کرسکتے ھیں۔ سپریم کوڑٹ کے تین رکنی بینچ کا اپیلنٹ مسعود بھٹی کے لئیے  حکم  ، جو وی ایس ایس -2008 لیکر ریٹائیڑڈ ھوئیے تھے۔ اس بات کی عمازی کرتا ھے۔ کے جو بھی یہ وی ایس ایس ، خاصکر وی ایس ایس -2008  لیکر ریٹئیڑڈ ھوئیے ان پر بھی گورمنٹ کے سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے قوانین کا اطلاق ھوتا ھے اور وہ بھی گورمنٹ کی اعلان کردہ پنشن انکریز، جو وہ اپنے ریٹائیڑڈ سول سرونٹ کے لئیے گاھے بگاھے کرتی رھتی ھے،  اسکے بجا طور پر  حقدار ھیں۔ تو گورمنٹ کی پنشن انکریز صرف وی ایس ایس لیکر ریٹائیڑڈ ھوئیے تھے نہ دینا  بلکل غلط ثابت ھوتا ھے، سپریم کوڑٹ کی مسعود بھٹی  کیس 2012SCMR152 اپیلنٹس کے حق میں دئیے گئیے اس فیصلے کی بنا پر ].


CPLA نمبر 2197، 2199، اور 2200-2205/2029، CPLA نمبر 2563 اور 2564/2022 اور CPLA نمبر 495-K اور 496-K/2023 کو اپیلوں میں تبدیل کر کے منظور کیا جاتا ہے اور متعلقہ ہائی کورٹ کو بھیجا جاتا ہے تاکہ درخواست گزاروں کی ملازمت کی درجہ بندی اور اس فیصلے میں بیان کردہ قانونی اصولوں کی روشنی میں ان کے حقوق کا تعین کیا جا سکے۔


C.A. نمبر 1509/2021 خارج کر دی جاتی ہے، کسی قسم کے اخراجات کے بغیر۔


C.R.P. نمبر 28/2018 برائے C.P.L.A. نمبر 54/2015؛

C.R.P. نمبر 56/2018 برائے C.P.L.A. نمبر 1643/2014؛

C.R.P. نمبر 144/2022 اور C.R.P. نمبر 29/2023 برائے C.A. نمبر 1509/2021 کو بھی خارج کر دیا گیا ہے۔


مزید یہ کہ C.M.A. نمبر 139/2025 برائے C.R.P. نمبر 56/2018 کو بھی خارج کر دیا گیا ہے۔


C.M.A. نمبر 5783/2022، 5641/2022، 5787/2022، 5788/2022، 5785/2022، 5786/2022، 5624/2022، 5781/2022، 5782/2022، 5789/2022، 5789/2022، 5833/2022، 6564/2022، 6066/2022، 5635/2022، 5789/2022، 6079/2022، 6074/2022، 6601/2022، 6075/2022، 6076/2022، 6073/2022 اور 6602/2022 (مختلف کیسز میں عبوری ریلیف کے لیے دائر کردہ درخواستیں) کو یہ قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا گیا ہے کہ چونکہ اصل مقدمات کا فیصلہ ہو چکا ہے، یہ درخواستیں بے فائدہ ہو گئی ہیں۔


C.M.A. نمبر 1470/2020 اور 7698/2022 برائے C.P.L.A. نمبر 463/2019؛

C.M.A. نمبر 1636 اور 1637/2022 برائے C.P.L.A. نمبر 6005/2021؛

C.M.A. نمبر 1633 اور 810/2022 برائے C.P.L.A. نمبر 6385/2021؛

C.M.A. نمبر 11621/2023 برائے C.P.L.A. نمبر 6379/2021؛

اور C.M.A. نمبر 7515/2024 برائے C.P.L.A. نمبر 6104/2021 (تمام درخواستیں جن میں فریق شامل کرنے کی استدعا تھی) کو خارج کر دیا گیا ہے۔

[نوٹ تو مندرجہ بالا سپریم کوڑٹ کے تین رکنی بینچ کے 2:1 کے نسبت سے پی ٹی سی ایل ریسپونڈنٹس کے حق میں احکامات]




یہ آپلوگوں کو اچھی طرح سمجھنا ھوگا کے کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تخلیق , Pakistan Telecommunication   Corporation .Act 1991  (ACT XVIII of 1991)  کے تحت 27 نومبر 1991 کو ھوئی  .جس دن اس ایکٹ  1991 کے تحت  ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی گراف ڈیپاڑٹمنٹ میں تمام  ریگولر کام کرنے والے  ملازمین (جن کی تعریف اس ایکٹ 1991 کے سیکشن (e)2  میں ڈیپاڑٹمینٹل ایمپلائیز کی گئی ھے) وہ سب ٹرانسفڑڈ ھو کر PTC کے ، اس ایکٹ 1991 کے سیکشن (1)9 کے تحت کارپوریشن  کے ملازم بن چکے تھے ان ھی   سروس ٹرمز اینڈ کنڈیشنس پر جو انکے کارپوریشن میں ٹرانسفڑڈ سے فورن پہلے ٹی اینڈ ٹی میں انپر نافزلعمل تھے

[ یاد رکھیں  کارپوریشن میں ٹرانسفڑڈ ھونے والے ایسے ملازمین کا ٹی اینڈ ٹی گورمنٹ ڈیپاڑٹمنٹ  میں انکا سٹیٹس سول سرونٹ کا تھا اور انپر گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے قوانین لاگو تھے.دو ایک ایسے قوانیں زکر کررھا ھوں۔جن کا اطلاق بیحد ھوتا تھا

1. Government Servants (Efficiency & Discipline) Rules 1973

2. Civil Servants (Appointment, Promotion & Transfer) Rules 1973. ]

پاکستان ٹیلی کمیونیکیش کارپوریشن  نے اپنے کوئی بھی قوانین نھیں بنائیے تھےاور انھی ٹی اینڈ ٹی والے قوانین اور پروسیجر کو adopt کرلیا تھا۔  کارپوریشن میں بھرتی ھونے ملازمین ان ھی Statutory Rules کے تحت بھرتی کئیے جارھے تھے ۔کارپوریشن میں کام کرنے تمام ملازمین کو گورمنٹ کی اپنے سول سرونٹ کو دینے والی ھی تنخواھوں میں اضافہ ، اور اسکیلز وھی تھے جو گورمنٹ کے سرکاری ملازمین کے تھے۔ جو ریٹائیڑڈ ملازمین چاھے وہ ٹی اینڈ ٹی میں ھی ریٹئائیڈ ھوئیے یا کارپوریشن میں  ان سبکو پنشن وھی دی جارھی تھی جوریٹائیڑڈ سرکاری ملازمین کو دی جارھی تھی بشمول ھرسال جو اضافہ پنشن میں ھوتاتھا

یکم جنوری 1996  کو پی ٹی ایل کمپنی کی  تخلیق اس ایکٹ 1996

Pakistan Telecommunication ( Re-organisation) Act 1996

اسکے سیکشن (2) 35 کے تحت حکومت نے یکم جنوری 1996 سے کی اور اس تاریخ کو ھی کارپوریشن میں کام کرنے والے تمام ملازمین ( اسمیں وہ بھی شامل تھے جو کارپوریشن میں 31 دسمبر 1995 تک بھرتی ھوئیے تھے) اس ایکٹ 1996 کے سیکشن (1)36 کے تحت ٹرانسفڑڈ ھوکر کمپنی کے ملازم تو بن گئیے  جنکو اسی سیکشن (1)36  میں ان سبکو  بطور Transferred Employees  ریفڑڈ کیا گیا. اسی سیکشن (1)36   کے پیرا 2 کے تحت گورمنٹ نے یہ گارنٹی دی ھے کے ان ٹرانسفڑڈ ایمپلائیز کے  سروس ٹرمز اینڈ کنڈیشنس اور حقوق ، جسمیں ٹرانسفڑڈ اییمپلائیز کو پنشنری بینیفٹس بھی شامل ھے وھی رھیں گے ۔( یعنی جو انکے کارپوریشن میں تھے) اور اسی ایکٹ 1996 کے سیکشن (2)36   یہ بھی واضح کردیا گیا ۔کے Transferred Employees کے ان سروس ٹرمز اینڈ کنڈیشنش منفی طور پر نہ تو حکومت تبدیل کرسکتی ھے اور نہ ھی کمپنی  کو اسکا اختیار ھوگا۔ تو کوئی بھی یہ تاثر نہ لے  چونکے سپریم کوڑٹ کے احکامات پی ٹی سی ایل میں کام کرنے والے ٹرانسفڑڈ ملازمین کے حق میں 7 اکتوبر 2011 سے آنے شروع ھوئیے جب تین رکنی سپریم کوڑٹ بینچ نے مسعود بھٹی کیس میں فیصلہ اپیلنٹس کے حق میں دیا جو 2012SCMR152 میں درج ھے ۔ دیکھا جائیے عدالت نے کوئی اپنی طرف سے کوئی حکم نھیں دیا بلکے جو قوانین تھے، جسکا زکر اوپر کر چکا ھوں صرف اسکی صرف تشریح کی ھے اور  بتایا کے پی ٹی سی ایل میں کام کرنے  والے تمام ٹرانسفڑڈ ملازمین جو یکم جنوری 1996 کو پی ٹی سی ایل کا حصہ بن گئیے تھے وہ سول سرونٹ کی کٹیگری سے تو نکل گئیے مگر ان پر سول سرونٹ ایکٹ 1973  کے قوانین کا ھی ، کمپنی میں اطلاق ھورھا تھا  اور انکی تنخواھیں، پنشن اور دیگر مراعات ویسی ھی کمپنی  دے رھی تھی جیسا گورمنٹ  اپنے سول ملازمین اور ریٹئیڑڈ سول ملازمین کو دے رھی تھی.جب کارپوریشن کے ملازمین یکم جنوری 1996  ٹرانسفڑڈ ھوکر کمپنی کے ملازمین بنے تو ان پر گورمنٹ کے ھی قوانین کا اطلاق ھورھا جو انپر ٹی اینڈ ٹی اور کارپوریشن میں ھورھا تھا۔ یکم دسمبر2001 سے گورمنٹ نے پے اسکییلز  کو تبدیل کیا اور تنخواھوں میں ا ضافہ کیا تو پی ٹی سی ایل نے بھی کیا مگر جب یکم جولائی 2005 کو گورمنٹ نے اپنے سول ملازمین کی تنخواھوں  اضافہ کیا تو انھوں نے نھیں کیا اور وہ ھی  یکم دسمبر 2001 والے اسکیلز رکھے اور انمیں میں اضافہ نھیں کیا۔لیکن ریٹئیڑڈ  پی ٹی سی ایل ٹرانسفڑڈ ریٹئیڑڈ ملازمین کی پنشن میں  وھی گورمنٹ والے پنشن اضافے جات رکھے ۔جون 2007 کو اسکی پرائیوی ٹائی زیشن مکمل ھوئی اور management ،  یو ای اے   کی ایک کمپنی ایتصلات کی، اسکے 26% شئیرز خریدنے کی وجہ سے آگئی ۔ کپمنی نے یکم جولائی 2010 سے گورمنٹ کی اپنے ریٹائیڑڈ سول ملازمین کے لئیے اعلان کردہ پنشن انکریز دینا بند کردئیے  اور وھی انکریز دینا شروع کئیے جو پی ٹی ای ٹی کے بوڑڈ آف ٹرسٹیز کی طرف سے منظور ھوتے تھے۔ آپ لوگ اس بات سے اندازہ لگالیں کے گورمنٹ نے اپنے ریٹئیڑڈ ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا 15% جبکے پی ٹی ای ٹی کے بوڑڈ آف ٹرسٹیز نے صرف 8% کیا اور تقریبنن ھرسال اتنا ھی منظور کرتا رھا۔ سابق ڈی جی پی ٹی سی ایل محمد عارف  مرحوم نےاپنے ۲۹ پی ٹی سی ایل ساتھیوں آفیسران کے ساتھ ملکر،  جنوری 2011 میں اور پی ٹی ای ٹی کی طرف سے منظور شدہ پنشن انکریزز کو اسلام آباد ھائی کو ڑٹ اپنی رٹ پٹیشن نمبر WP-148/2011کےزریعے چیلنج کردیا ۔ جو لوگ وی ایس ایس 2008 لے کر مارچ 2008 تک ریٹائیڑڈ ھوئیے تھے اور جنکو پنشن بھی گورمنٹ والی دی جارھی تھیں جو صرف 2009 -2010 تک دی گئیں اور انکو  بھی بوڑڈآف ٹرسٹیز سے منظور کردہ ھی پنشن ھرسال ، یعنی یکم جولائی سے عائید کرنا شروع کردیں ۔ اس پر بہت سے وئ ایس ایس 2008  نے بھی اسلام آباد ھائی کوڑت اور پشاور ھائی کوڑٹ میں رٹ پٹیشنیں دائیر کردیں۔   اسلام آباد ھائی کوڑت کے اسوقت کے چیف جسٹس اقبال رحیم صاحب  نے ایسی رٹ پٹیشنوں کو۔ محمد عارف اور دیگر کی طرف سے دائیر کردہ رٹ پٹیشن یعنی WP-148/2011 کے ساتھ کلب کردیا ۔ 21 دسمبر 2011 کو جسٹس اقبال رحیم محمد عارف (مرحوم) کی رٹ پٹیشن  نمبر WP-148/2011  اپنا ججمنٹ تفصیلی لکھ کر تمام اپیلیں منظور کرلیں اور ان سبکو گورمنٹ اعلان کردہ پنشن انکریزز 

دینے کا اور تمام اسکے بقایا جات دینے کا حکم دیا۔ مگر انسبکو انھوں نے اسلام اباد ھائی کوڑٹ میں  اس حکمناے کو انٹرا کوڑٹ اپیلوں کے زریعے چیلنج کردیا ۔اپریل 2014  میں انکی انٹرا  اپیلیں ڈسمس کردیگئیں تو انھوں نے  اسکے خلاف  اپیلں سپریم کوڑٹ میں ھی اپریل 2014 میں دائیر کردیں۔پی ٹی ای ٹی نے  سپریم کوٹ میں پشاور کے دو رکنی بینچ کی طرف ان اپیلوں کے مسترد  ھو نے کو  چیلنج کردیا۔ جسکا فیصلہ 12 جون 2015 کو آیا  ،جو تین رکنی بینچ نے دیا انکی تمام اپیلیں مستردکردی گئیں اور تمام ریسپونڈنٹس کو گورمنٹ کی اعلان  کردہ پنشن دینے کا حکم دیا[یہ2015SCMR1472 میں درج ھے۔ آپ لوگ گوگل پر سرچ کر پورےفیصلے کو پڑھ سکتے ] یہ فیصلہ اس چیز کی عمازی کرتا ھے کے ٹی اینڈ ٹی سے کارپوریشن اور پھر کمپنی میں ٹرانسفڑڈ ھوکرریٹائڑڈ ھونے والے ایسے پی ٹی سی ایل ملازمین کو پی ٹی ای ٹی کا بوڑڈ آف ٹرسٹیزگورمنٹ کی  ھی اعلان  کردہ پنشن دینے کا پابند ھیں.اب جو نان پٹیشنرز پی ٹی سی ایل پنشنرز جو پی ٹی سی میں بھرتی ھوئیےتھے اور ان پر بھی کارپوریشن میں گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت  فیڈرل گورمنٹ کے بنائیے ھوئیے قوانین کا اطلاق ھورھا تھا اور وہ چاھتے ھیں کے انکو بھی گورمنٹ کی ھی اعلان کردہ پنشن ملے اور وہ اس خدشے کاشکار ھیں کے سپریم کوڑٹ نے تو اپنے 10 جولائی 2025  صرف ان  پی ٹی سی ایل پنشنرز پٹیشنروں کو ھی اس گورمنٹ والی پنشن کا حقدار ٹہرایا ھے جو ٹی اینڈ ٹی سے کارپوریشن میں ۱۹۹۱ ٹرانسفڑڈ ھوتے وقت سول سرونٹ تھے۔ اسلئیے وہ تو سپریم کوڑٹ کے اس فیصلے کی بنیاد پر اپنے لئییے گورمنٹ کی اعلان کردہ پنشن سے کسطرح مستفید ھوسکتے جبکے وہ تو ڈائریکٹ کارپوریشن میں بھرتی ھوئیے تھے۔ایسی ھر گز بات نھیں وہ 100% گورمنٹ  کی اعلان کردہ پنشن کے حقدار ھیں جووہ اپنے ریٹائیڑڈ سول ملازمین کو دیتی ھے، کیونکے سپریم کوڑٹ  کے لارجر پانچ رکنی بینچ  نے انکی رویو پٹیشن  19 فروری 2016 خارج کردی تھی [ PTET & etc Vs Masood Bhattie& etc  2016 SCMR 1362]  جو انھوں نے سپریم کوڑٹ کے  تین رکنی بینچ اس 7 اکتوبر 2011  اس فیصلے خلاف تھی  جو 2012SCMR152  میں درج ھیں جسمیں اپیلنٹس کو کمپنی میں سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے قوانین کا حامل قرار دیا گیا تھا اور انکی  سندھ ھائیکوڑٹ دائیر کردہ رٹ پٹیشن کو صحیح قرار دیا تھا اور سندھ ھائی کوڑٹ کے دورکنی بینچ کا وہ فیصلہ ڈسمس کردیا جس میں اپیلنٹس کی رٹ پٹیشنس اس لئیے بغیر سنے  ڈسمس کردی تھیں کے یہ پٹیشنرس  اب کمپنی کے ملازم بن گئیے ھیں اور انکو ھائی کوڑٹوں سے رجوع کرنے کا اختیار نھیں جو ایک گورمنٹ کے سول سرونٹ کا ھوتا ھے۔ سپریم کوڑٹ  کے لارجر پانچ رکنی بینچ  نے  [ PTET & etc Vs Masood Bhattie& etc  2016 SCMR 1362]   میں یہ واضح کردیا تھا کے کارپوریشن سے کمپنی ٹرانسفڑڈ ھونے والے ملازمین میں کمپنی کے ملازم کہلائیں گے انکو سول سرونٹ نھیں کہا جاسکتا مگر کمپنی میں ان پر  گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ  1973 میں سول سرونٹ کی سروس ٹرمز اینڈ کنڈیشنس پر سیکشن 3 سے سیکشن 22 تک کا اطلاق ھوگا ۔جسمیں واضح طور پر بیان کردیا گیا ھے کے انکو وھی پنشن اور تنخواہ دی جائیگی جو اس ایکٹ 1973 میں سول سرونٹ کے لئیے کہی گئی ھے۔ تو کارپوریشن میں بھرتی ھونے گورمنٹ کی اعلان کردہ پنشن کلیم کرسکتے ھیں (چاھے وہ کسی بھی طریقہ کار سے ریٹائیڑڈ ھوئیے ھوں  ) سپریم کوڑٹ کے 12 جون 2015 کے فیصلے کے ریفرنس سے  جو یہ2015SCMR1472  

ھائی کوڑٹ میں رٹ پٹیشن  دائیر کر کے۔



سپریم کوڑٹ کے دورکنی بینچ نے راجہ ریاض کی طرف دائیر کردہ اپیل پر ۵ جولائی ۲۰۱۵ اسکو گورمنٹ کی اعلان کردہ تنخواہ اور پنشن دینے کا حکم دیا جو Muhammad Riaz Vs  FoP&  & others (2015SCMR1783) میں درج ھے۔ [جو یہ لوگ نھیں دے پارھے تھے تو راجہ ریاض نے انکے خلاف توھین عدالت کا کیس دائیر کردیا ۔ سپریم کوڑٹ نے اسکی گورمنٹ والی تنخواہ دینے لئیے اسکی کیلکولیشن AGPR سے کرائی جب سے پی ٹی سی ایل نے انکو گورمنٹ کی اعلان کردہ تنخواہ دینی  بند کردی تھی یعنی یکم جولائی 2005 سے۔ راجہ ریاض کو نہ صرف یہ تنخواہ کے بقایا جات ادا کئیے گئیے  اور اسکی پنشن بھی گورمنٹ کے مطابق فکس کی گئی اور اسکے بقایا جات بھی ادا کئیے ۔ اور جو پنشن گورمنٹ کے حساب سے ھونی چاھئیے تھی نہ صرف وہ فکس کی بلکے پنشن کے ساتھ  ملنے والا میڈیکل اللاؤنس بھی دیا گیا جو یکم جولائی 2010 گورمنٹ نے ریٹئیڑڈ ملازمین کو دیا گیا تھا اور وہ فریز کردیا گیا تھا]۔ سپریم کوڑٹ کے اس فیصلے کی بنیاد پر پی ٹی سی ایل میں کام کرنے والے ٹرانسفڑڈ ملازمین گورمنٹ کی اعلان کردہ تنخواہ کے حقدار ھوگئیے ھیں اب جو بھی چاھے اس کیس کے ریفرنس سے ھائی کوڑٹ می رٹ پٹیشن دائیر کرکے ان سے  گورمنٹ کی اعلان کردہ تنخواہ اور پنشن کلیم کر سکتا ھے۔ یہ لوگ خود سے کبھی سب  نان پٹیشنرس کو کبھی نھیں دیں گے۔

تو سپریم کوڑٹ کی طرف سے پی ٹی سی ایل  ملازمین اور پنشنرز  پٹیشنرز کے حق میں میں آئیے ھوئیے فیصلے    ، جو اوپر  بیان اس بات کی عمازی کرتے ھیں کے پی ٹی سی ایل میں کام کرنے والے ملازمین اگرچہ سول سرونٹ تو نھیں رھے مگر انپر گورمنٹ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے قوانین کا اطلاق ھوگا انکو تنخواہ، پنشن و مراعات جو گورمنٹ کے اپنے سول سرونٹ کو دیتی رھتی ھے ویسے ھی ان کمپنی میں کام کرنے والے ٹرانسفڑڈ ملازمین کو بھی ملے  گی۔ اس میں کسی کو کوئی شک نھیں ھونا چاھئیے۔ یہ کبھی خود سے سپریم کوڑٹ کے ان احکامات کا دائیرہ کار تمام نان پٹیشنرز  پی ٹی سی ایل ملازمین اور پنشنرز  اور پنشنرز تک  نھیں بڑاھیں گے  اور گورمنٹ والی تنخواہ ، پنشن و دیگر مراعات دینا شروع کردیں گے جسطرح گورمنٹ کرتی ھے۔ وہ کسی سرکاری ملازم کی مقدمہ بازی کے  زریعے ، سپریم کوڑٹ کے اس کے حق میں آنے والے کا فائیدہ  اور ایسے ھی ملازمین جنھوں نے مقدمہ نہ کیا ھو تک پہنچانے کے لئیے  ھو تو وہ ایک گورمنٹ  نوٹیفیکیشن کے زریعے ،اس سپریم کوڑٹ کی طرف سے آنے والے احکامات سب تمام نان پٹیشنرز ملازمین  کے لئیے آشکارہ  کردیتی ھے۔

آپ Estacode اٹھاکر دیکھیں ایسے بیشتر نوٹیفیکیشن آپ کو مل جائیں گے جو گورمنٹ سپریم کوڑٹ فیصلے بنا پر کرتی ھے یا کوئی بھی رولنگ دیتی ھو۔


 میں سمجھتا ھوں اگر آپ نے میرا یہ آڑٹیکل بڑے غور سے مکمل پڑھ لئیا ھوگا تو آپ یقنین اسکے قائیل ھوجائینگے کے آپ لو گوں پر پی ٹی سی ایل میں سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت بنائیے ھوئیے قوانین اطلاق ھونا چاھئیے۔ آپ کی پروموشن، ٹرانسفڑڈ، یا آپکے خلاف کوئ تابئیدہ کاروائی ھو  گورمنٹ کے بنائیے ھوئیے قوانین مطابق ھی ھونے چاھئیے ناکے کمپنی کے بنائیے ھوئیے قوانین کے مطابق،جو غیر قانونی کہلائیے گی۔ تو جو لوگ گورمنٹ کے اعلان کردہ پنشن انکریزز لینا چاھتے ھیں وہ 12 جون 2015 کے سپریم کوڑٹ کے فیصلے کے ریفرنس سے ، اور 19 فروری 2016 کو پانچ رکنی بینچ کے فیصلے ( اوپر تفصیل  سے بیان کر چکا ھوں) کے ریفرنس کو بنیاد بناکر ھائی کوڑٹ کے زریعے یہ ریلیف مانگ سکتے ھیں 

واسلام

 محمد طارق اظہر

ریٹائیڑڈ جنرل منیجر (آپس) پی ٹی سی ایل

راولپنڈی

۱۹ اگست ۲۰۲۵



 









Comments

Popular posts from this blog

Article-173 Part-2 [Draft for non VSS-2008 optees PTCL retired employees]

Article-170[ Regarding Article -137 Part -1 in English]

.....آہ ماں۔