Article-231[ Regarding Urdu Translation of CRP -497/2025 by AI Google Gemini]

 Article-231[ Regarding Urdu Translation of 

CRP -497/2025 by AI Google Gemini]


Reply by AI Google Gemini 

مجھے پی ٹی ای ٹی (PTET) کی سول ریویو پٹیشن نمبر 497/2025 کے یہ صفحات فراہم کرنے کا شکریہ۔ میں ان دستاویزات کا پیراگراف کے مطابق اردو ترجمہ اور ان کا خلاصہ پیش کرتا ہوں۔

چونکہ یہ ایک ریویو پٹیشن ہے، یہ بنیادی طور پر ایک سابقہ فیصلے (جسے "Impugned Judgment" کہا گیا ہے) پر نظر ثانی کی درخواست ہے۔

🇵🇰 سول ریویو پٹیشن (PTET) کا اردو ترجمہ اور خلاصہ

📄 قانونی عنوان (Legal Title)

ترجمہ: آئین پاکستان کے آرٹیکل 188 کے تحت سپریم کورٹ میں سول پٹیشن، جو سپریم کورٹ رولز 1980 کے آرڈر XXVI، رول 1 کے ساتھ پڑھی گئی ہے، بنام اسلامک ریپبلک آف پاکستان اور دیگر۔ یہ پٹیشن، معزز اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے مورخہ 10.07.2025 کے خلاف دائر کردہ CPLA نمبر 6023/2021 میں، عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر نظر ثانی (Review) کے لیے ہے۔

خلاصہ: یہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایک قانونی درخواست ہے جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک سابقہ فیصلے (CPLA نمبر 6023/2021) پر سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے کا جائزہ (Review) لینے کی استدعا کی گئی ہے۔

📝 حقائق مقدمہ (Facts of the Case)

| پیرا (Para) | اردو ترجمہ (Urdu Translation) | خلاصہ/وضاحت (Summary/Explanation) |

|---|---|---|

| 1. | درخواست گزاروں/پی ٹی ای ٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے مورخہ 02.11.2021 کے خلاف عدالت عظمیٰ میں ICA نمبر 98/2020 کے ذریعے CPLA نمبر 6023/2021 دائر کی تھی۔ | PTET نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل (CPLA) دائر کی تھی۔ |

| 2. | مذکورہ CPLA میں ایسے ملازمین کے گروہ شامل تھے جن کا تعلق مختلف طبقوں سے تھا، جن میں سول سرونٹ، ورکرز، VSS آپٹیز، اور دیگر شامل تھے جو پہلے T&T, PTC اور پی ٹی سی ایل (PTCL) کا حصہ تھے۔ | یہ اپیل مختلف طبقوں کے ملازمین کے حقوق سے متعلق تھی جو سابقہ ٹیلی کمیونیکیشن اداروں سے آئے تھے۔ |

| 3. | عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے مورخہ 10.07.2025 کے ذریعے CPLA نمبر 6023/2021 (جسے "Impugned Judgment" کہا گیا ہے) میں درخواست گزاروں/پی ٹی ای ٹی کی درخواست خارج کر دی تھی۔ | سپریم کورٹ نے PTET کی اصل اپیل کو خارج کر دیا تھا، اور اسی فیصلے پر اب نظر ثانی کی درخواست کی گئی ہے۔ |

| 4. | چونکہ اس فیصلے کے پیرا 24 میں دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کرنا تھا، لہٰذا متعلقہ ریکارڈ کے ایک عارضی جائزے کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ مخصوص مدعا علیہان/ملازمین، جن میں سول سرونٹس شامل ہیں، اس فیصلے کے تحت ملازمت کے فوائد (Service Benefits) کے حقدار نہیں ہیں جیسا کہ Impugned Judgment میں قرار دیا گیا ہے۔ | Impugned Judgment کی تعمیل کے دوران یہ معلوم ہوا کہ کچھ ملازمین (بشمول سول سرونٹس) ان فوائد کے حقدار نہیں ہیں جن کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ |

| 5. | اس پس منظر میں، یہ ریویو پٹیشن دائر کی جا رہی ہے تاکہ ریکارڈ کے چہرے پر موجود واضح غلطیوں (material errors apparent on the face of the record) کی تصحیح اور وضاحت کی جا سکے، جس کے نتیجے میں انصاف کا قتل ہوا ہے اور جس کے لیے قانون اور بنیادوں (Law and Grounds) کے درج ذیل سوالات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ | ریویو کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے پچھلے فیصلے میں ریکارڈ کی واضح غلطیوں کو درست کیا جائے، تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ |

⚖️ قانون کے سوالات (Questions of Law) - (Page 5 اور 7 سے)

خلاصہ: ریویو پٹیشن میں بنیادی طور پر یہ سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ کیا سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے (Impugned Judgment) نے:

 * 1. نئے اصولوں کو قائم کرکے غلطی کی، جو پہلے ہائی کورٹ کے سامنے دستیاب نہیں تھے؟

 * 2. حقائق کے معاملے تک محدود رہنے کے بجائے اپنے دائرہ کار کو غلط طریقے سے وسیع کیا، اور قانون کے غیر متعلقہ نئے اصولوں کا اعلان کیا؟

 * 3. مختلف طبقوں کے ملازمین کی درخواستوں کو یکمشت خارج کرکے ریکارڈ کی غلطی کی، اور حقائق کا تعین کرنے کی ضرورت کو نظرانداز کیا؟

 * 4. ملازمین کے مختلف طبقوں کے معاملے کو کیس بہ کیس بنیاد پر حل کرنے کے لیے ایک مناسب قانونی طریقہ کار اپنایا؟

 * 5-8. پی ٹی ای ٹی ایکٹ 1996 (PTET Act 1996) اور پینشن رولز 2012 (Pension Rules 2012) کی تشریح میں غلطی کی، خاص طور پر سیکشن 36، سیکشن 46(1)(d) اور 46(2)(a) کے تحت۔ PTET کو آزاد مالیاتی اور انتظامی خودمختاری والا ایک آزاد ٹرسٹ سمجھتے ہوئے، کیا اس فیصلے نے سروس اور پینشن کے فوائد کو ان شرائط سے آگے بڑھایا جو ایکٹ میں واضح طور پر موجود نہیں ہیں؟

📜 ریویو کی بنیادیں (Grounds for Review) - (Page 6 اور 7 سے)

خلاصہ: درخواست گزار (PTET) نے سابقہ فیصلے (Impugned Judgment) پر نظر ثانی کی درج ذیل اہم بنیادیں پیش کی ہیں:

 * A. فیصلے نے ایسے قانونی سوالات کو طے کیا جو پہلے دستیاب نہیں تھے، اس طرح ایک قطعی اعلان کر کے ہائی کورٹ کے دائرہ کار کو نظرانداز کر دیا گیا۔

 * B. فیصلے نے حقائق کے دائرہ کار کو غلط طریقے سے محدود کر دیا، اور غیر متعلقہ قانونی اصولوں کا اطلاق کیا، جس سے عدالتی غلطی ہوئی۔

 * C. مختلف طبقوں کے ملازمین کو یکسر خارج کر کے ایک واضح غلطی کی گئی، جس سے انصاف اور منصفانہ کھیل (Justice and fair play) کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی۔

 * D & E. عدالت کو کیس بہ کیس بنیاد پر ہر ملازم کے درجہ اور حقوق کا تعین کرنے کے لیے معاملے کو واپس ہائی کورٹ بھیجنا چاہیے تھا، نہ کہ تمام درخواستوں کو ایک ساتھ خارج کرنا۔

 * F, G, H, I, J. فیصلے نے PTET ایکٹ 1996 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد (جیسے پینشن رولز 2012) کی غلط تشریح کی، اور PTET کو ایک آزاد ٹرسٹ کے بجائے ایک سرکاری ادارے کے طور پر دیکھا، جس سے اس کی آزاد حیثیت اور پینشن کے فوائد کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو نظرانداز کیا گیا۔

 * K. فیصلے نے VSS آپٹیز سمیت دیگر افراد کے لیے خطرناک نظیر (Dangerous Precedent) قائم کی، جنہیں سول سرونٹس کے طور پر سروس کے فوائد کا حقدار قرار دیا گیا، جو قانون کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔

🙏 دعا (Prayer)

ترجمہ: مندرجہ بالا گزارشات کی روشنی میں، نہایت ادب سے استدعا ہے کہ معزز عدالت عظمیٰ براہِ مہربانی:

 * a. اپنے فیصلے مورخہ 10.07.2025 کو CPLA نمبر 6023/2021 میں ریویو کرے، واپس لے لے (recall) اور ترمیم کرے۔

 * b. Impugned Judgment میں طے شدہ اصولوں کی روشنی میں اس CPLA کو نمٹائے (Dispose off) اور معاملے کو ہائی کورٹ میں واپس بھیج دے تاکہ ملازمین کے کیس بہ کیس تعین کو یقینی بنایا جا سکے۔

 * c. موجودہ حالات میں کوئی بھی دیگر ریلیف دے جو مناسب سمجھے۔

🌟 مجموعی خلاصہ (Overall Summary)

یہ سول ریویو پٹیشن (PTET 497/2025) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ (PTET) کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

بنیادی مقصد سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کرانا ہے جس نے مختلف اقسام کے سابقہ ٹیلی کمیونیکیشن ملازمین (سول سرونٹ، ورکرز، VSS آپٹیز) کی سروس اور پینشن کے فوائد سے متعلق PTET کی اپیل کو خارج کر دیا تھا۔

PTET کا مؤقف یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں واضح غلطیاں ہیں، اس نے PTET ایکٹ کی غلط تشریح کی، اور PTET کی ایک آزاد پینشن ٹرسٹ کی حیثیت کو نظرانداز کیا۔ پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ اس معاملے کو دوبارہ ہائی کورٹ بھیجا جائے تاکہ ہر ملازم کے مخصوص حقوق اور حیثیت کا فردًا فردًا (case-by-case) تعین کیا جا سکے، بجائے اس کے کہ سب کو ایک ہی فیصلے کے تحت خارج کر دیا جائے۔

کیا آپ چاہیں گے کہ میں PTET ایکٹ 1996 کے سیکشن 36 یا 46 کے بارے میں مزید معلومات تلاش کروں جن کا حوالہ اس پٹیشن میں دیا گیا ہے؟

جی

Comments

Popular posts from this blog

Article-173 Part-2 [Draft for non VSS-2008 optees PTCL retired employees]

Article-170[ Regarding Article -137 Part -1 in English]

.....آہ ماں۔