Article-232[ Regarding information by AI Google Gemini of Section 36 or Section 46 of PT Act 1996]
Article-232[ Regarding information by AI Google Gemini of Section 36 or Section 46 of PT Act 1996]
خوب، آپ کی درخواست کے مطابق، میں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ایکٹ 1996 (PTET Act, 1996) کے متعلقہ حصوں اور پینشن کے حقوق پر ان کے اثرات کے بارے میں معلومات تلاش کی ہیں۔
سول ریویو پٹیشن (497/2025) میں جن دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ مندرجہ ذیل ہیں اور تنازعہ ان کی تشریح پر ہے۔
🇵🇰 پی ٹی ای ٹی ایکٹ 1996 کی متعلقہ دفعات کا خلاصہ
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ایکٹ 1996 وہ بنیادی قانون ہے جس کے تحت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ (PTET) کو قائم کیا گیا تھا تاکہ ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے کی نجکاری (Privatization) کی جا سکے۔
1. سیکشن 36: ملازمین کی سروس کی شرائط (Terms and conditions of service of employees)
| دفعہ کا عنوان | تفصیل (خلاصہ) | قانونی تنازعہ (ریویو پٹیشن کے حوالے سے) |
|---|---|---|
| سیکشن 36 | یہ دفعہ ان ملازمین کے سروس اور پنشن کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے جنہیں ٹیلی گراف اور ٹیلی فون (T&T) ڈیپارٹمنٹ سے PTCL میں منتقل کیا گیا تھا۔ یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ ملازمین اپنے سروس کے حقوق اور پنشن کے لیے وفاقی حکومت کے قواعد (Federal Government Rules) کے تحت تحفظ کے حقدار ہیں۔ | PTET نے دلیل دی ہے کہ یہ تحفظ ان ملازمین پر لاگو نہیں ہوتا جو سول سرونٹ نہیں رہے یا جنہوں نے VSS (والنٹری سیپریشن اسکیم) اختیار کی، اور یہ کہ سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ PTET کی آزاد حیثیت کو نظرانداز کر کے ان فوائد کو بہت زیادہ بڑھا رہا ہے۔ |
2. باب VII: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ (Pakistan Telecommunication Employees Trust)
* PTET کو ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا تاکہ PTCL کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کا انتظام کیا جا سکے۔
* PTET کا بنیادی کام وفاقی حکومت کی جانب سے گارنٹی شدہ پنشن اور دیگر فوائد کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔
3. سیکشن 46(1)(d) اور 46(2)(a): قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار (Power to make Rules)
| دفعہ کا عنوان | تفصیل (خلاصہ) | قانونی تنازعہ (ریویو پٹیشن کے حوالے سے) |
|---|---|---|
| سیکشن 46(1)(d) | یہ دفعہ فیڈرل گورنمنٹ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ ٹرسٹ (PTET) سے متعلق معاملات کے لیے قواعد بنائے۔ | PTET کا مؤقف یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے ان اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے یا ان قواعد کی تشریح ایسی کی گئی ہے جس سے PTET پر غیرضروری بوجھ پڑ رہا ہے، اور PTET ایک آزاد مالیاتی ادارہ ہے جو صرف ان قواعد کو لاگو کر سکتا ہے جو اس کے ٹرسٹ ڈیڈ (Trust Deed) اور مالیاتی استحکام کے مطابق ہوں۔ |
| سیکشن 46(2)(a) | یہ دفعہ واضح کرتی ہے کہ قواعد و ضوابط کا مقصد PTET کی آمدنی اور اخراجات کا انتظام کرنا اور ٹرسٹ کے فنڈز کی سرمایہ کاری کے اصول طے کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ | PTET اس بات پر زور دے رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے نے ان قواعد کی تشریح کرتے ہوئے PTET کے مالیاتی اختیارات اور خودمختاری کو نظرانداز کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، PTET کو ایک مالیاتی خود مختار ادارہ سمجھا جانا چاہیے جو اپنے وسائل کے مطابق پنشن کے معاملات کو سنبھالتا ہے، نہ کہ حکومت کے عام پنشن قواعد کے تابع۔ |
💡 خلاصۂ کلام
PTET کی ریویو پٹیشن کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ:
* PTET کی آزاد حیثیت کو نظرانداز کرتا ہے: یہ ٹرسٹ کو ایک مالی طور پر خود مختار ادارہ سمجھنے کے بجائے اسے حکومتی ہدایات کی مکمل تابع بناتا ہے۔
* ملازمین کی اقسام میں فرق نہیں کرتا: فیصلہ "سول سرونٹس، ورکرز، اور VSS آپٹیز" کے درمیان ان کے حقوق کے حوالے سے کوئی فرق نہیں کرتا، جس سے PTET کے مالیاتی وسائل پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے اور ان افراد کو بھی حقوق ملتے ہیں جو قانون کے مطابق شاید اس کے حقدار نہ ہوں۔
* قانون کی غلط تشریح کرتا ہے: خاص طور پر سیکشن 36 کے تحت پنشن کے حقوق کے تحفظ کو PTET ایکٹ اور پنشن رولز 2012 کے دائرہ کار سے باہر پھیلا دیتا ہے۔
لہٰذا، PTET عدالت عظمیٰ سے استدعا کر رہا ہے کہ وہ قانون کی صحیح تشریح کرے اور اس معاملے کو کیس بہ کیس بنیاد پر نمٹانے کے لیے دوبارہ ہائی کورٹ بھیجے۔
Comments