Posts

Article-108[Regarding Writ Petition No 4588/2018]

About Writ Petition WP-4588/2018  Muhammad Tariq Azhar & others Federation of Pakistan & others نوٹ : اس کیس میں میرے ساتھ شامل ھونے والے پٹیشنرس متوجہ ھوں عزیز پی ٹی سی ایل پنشنرس پٹیشنرس ساتھیو اسلام علیکم جیسا کے آپ سب لوگ جانتے ھیں میں نے یہ کیس آپ اکتیس پٹیشنروں کی  ساتھ  جناب جمیل حسن قریشی ایڈوکیٹ کی وساطت  سے اسلام آباد ھائی کوڑٹ ۱۵ نومبر ۲۰۱۸ میں دائیر کیا تھا جو اس نمبر سے یعنی WP-4588/2018 یکم دسمبر کو رجسٹڑڈ ھوا اور اسکی پہلی شنوائی  ۳ دسمبر ۲۰۱۸  کو اسلام ھائی کوڑٹ کے جج محترم جج جناب جسٹس عامر صاحب کی عدالت میں ھوئی جو انھوں نے سماعت کے لئیے منظور کرتے ھوئیے ، پی ٹی ای ٹی اور پی ٹی سی ایل اور دیگر ریسپونڈنٹس کو نوٹسس دیتے ھوئے دو ھفتوں میں جواب مانگا۔ جسکا جواب یہ لوگ اب تک جمع نھیں کراسکے ۔ ھمارے وکیل صاحب نے جون ۲۰۱۹ میں اسکی ارجنٹ ھئیرنگ کی درخواست لگائی جسکی ھئیرنگ شائید 24 جون ۲۰۱۹ کو ھوئی ۔ اسوقت بھی انھوں نے جواب جمع نہیں کرایا تو عدالت نے کیس کی ھئیرنگ عدالت کی چھٹیوں تک موقوف کردی اور پھر ۲۲ اکتوبر ۲۰۱۹ کو اسکی ھئیرنگ...

Case 4588/2018 update

Image
Update                                                         WP-4588/2018 in IHC                                  Muhammad Tariq Azhar & 31 others                                                                       Vs                                       Fedration of Pakistan & 4 others It is information  to all concern petitioners of the case that the hearing of the above case has  been fixed on 5th December 2019 . Previously hearing on dated 22th  October 2019 was adjourned  due to the reason that neither the council of PTCL nor of PTET had submitted the replies of IHC notices in issued to them on 3rd December 2018 for  submission of replies within fortnight. Regards Tariq Ottawa Canada 29-12-2019 نوٹ:- یہ پٹیشن میں نے اپنے ۳۱ پی ٹی سی ایل پٹیشنر  پنشنر ساتھیوں کے ساتھ  ۳ دسمبر ۲۰۱۸ کو اسلام آباد نئی داخل کی تھی اور اب تک پی ٹی ای ٹی والوں نے اسکا جواب جمع نہیں کرایا- جبکے عدالت نے انکو دو ھفتے میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا- میرا اس پٹیشن ون پوائینٹ مدعا تھا - پی ٹی ...

Article-107[ Regarding update of my case in IHC Writ Petetion # 4588/2018]

       [Case Update] Muhammad Tariq Azhar etc           Vs Federation of Pakistan etc            Writ Petition # 4588/2018 خدا خدا کرکے آج ۱۰ ماہ بعد میری اپنے ۳۱ پی ٹی سی ایل پنشنرز ساتھیوں کے ساتھ اسلام آباد ھائی کوڑٹ میں دائیر کردہ رٹ پٹیشن ( نمبر اوپر دے رکھا ھے) کی شنوائی ھوئی جو پی ٹی ٹی ای ٹی اور پی ٹی سی ایل کے وکیل کے نہ آنے کے باعث دسمبر کے پہلے ھفتے تک ملتوی کردی گئی ۔ انکے وکیل صاحب اپنے کسی عزیز کی بیماری کے باعث تشریف نہیں لائیے اور نہ ھی بھی تک  نے اسکا کوئی جواب اب تک جمع کرایا ھے ، جسکا انکو عدالت نے اپنی پہلی ھئیرنگ میں جو  ۳ دسمبر ۲۰۱۸ کو ھوئی تھی ، دو ھفتوں میں میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا ۔ جو یہ لوگ اب تک جمع نہیں کراسکے۔ ھمارے اس کیس کے جج محترم جناب جسٹس عامر فاروق ھیں ۔ مجھے آج اس کیس کی شنوائی کے لئے جانا تھا ، لیکن میں صاحب فراش ھونے کی وجہ سے نہ جاسکا ۔ گزشتہ تین ماہ سے میں اپنی بائیں ٹانگ میں فریکچر کی باعث چلنے میں دشواری ھے۔ میں نے اپنے ساتھی مسرت نواز کو ج...

News clip regarding restoration of commuted pension by Sindh Govt

نیوز کلپ نوٹ :- اس بارے سندھ حکومت کے نوٹیفیکیژن کی کاپی جو ١٩ ستمبر ٢٠١٩ کو ایشو کیا گیا تھا میں پہلے ھی فیسبک پر اپلوڈ کرچکا ھوں اور ما سواٸے پی ٹی  ای ٹی کے اب ھر گورنمنٹ  فیڈرل  اور صوباٸٸ گورنمنٹ اسی طرح کے نوٹیفیکیشن نکال چکی ھے اور عمل بھی شروع ھوچکا ھے پی ٹی سی ایل کے ایسے بزرگ  پنشر اب تک محروم ھیں  . اس بارے میں میرا آڑٹیکل 106 ضرور پڑھیں ۔ شکریہ واسلام طارق  ٨ اکتوبر ٢٠١٩  Jasarat Newspaper Urdu ۔72 تا 75 سال کے تمام پینشنرز کی پنشن بحال از محمد انور-October 5, 2019, 12:52 AM      کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) حکومت سندھ نے تمام صوبائی اور خود مختار اداروں کے 72 تا 75 سال عمر کے تمام پنشنرز کی پوری پنشن بحال کردی ہے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کی جانب سے جری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب تمام پنشنرز کو 100 فیصد پنشن ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔ نوٹیفکیشن میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس مقصد کے لیے72 تا75 سال کے تمام پنشنرز کو نہ متعلقہ دفاتر میں ازخود پیش ہونا پڑے گا اور نہ کوئی درخواست دینی پڑے گی۔ اس سے قبل سی...

Article-106[ Regarding restoration of commuted pension ]

Article-106[ Regarding restoration of commuted pension ] Commutation Table for the employees retired after 01-12-2001 is different from that table which issued on 01-07-1986. According to this table the employees retired at the age of 60 years will get their commuted portion restored after 12 years i.e at the age of 72 years. Let us say that the pensioner receives 12.3719 years pension in advance by surrendering the commuted pension.  On expiry of 12 (rounded off) years, that advance is adjusted, and the commuted part is restored. Since advance amount involves financial benefit as interest free lump sum, hence the more years purchase is more beneficial to the pensioner. اوپر دیا گیا ھوا مراسلہ میں نے اے جی پی آر کی سائیٹ حکومت پاکستان  سے لیا ھے۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کے مطابق جو لوگ یکم دسمبر ۲۰۰۱ اور اسکے بعد ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائیڑڈ  ھونگے انکی  عمر جب 72 کو پہنچے گی تو انکی کمیوٹڈ پنشن بحال ھو جائیگی اور جو اس سے سے پہلے ریٹائیڑڈ ھوئیے ھوں گے...

Article -105[ Regarding the dismissal order of IHC for group insurance for Federal Government ‘s retired Civil servants]

Image
Article-105 گروپ انشورنس کی رقم ریٹائیڑمنٹ پر فیڈرل گورنمنٹ  کے ملازمین  کو دینے  کا عدالتی معاملہ عدالت نے یہ صحیح فیصلہ دیا ۔ یہ فیصلہ جو گیارہ صفحات پر مشتمل ھے میں نے مکمل پڑھا ھے۔ مجھے کوئی حیرت نہیں ھوئی ۔ یہ اسلام آباد ھائی کوڑٹ میں محمد ریحان خان بنام فیڈرل گورنمنٹ اور دو دیگران رٹ پٹیشن نمبر4132/2016 ھے جس میں فیڈرل گورنمنٹ کو 1969 کے بینولنٹ فنڈ اور گروپ انشورنس ایکٹ کی سیکشن ۱۹ میں ترمیم کرنے کہا کے یہ گروپ انشورنس کی رقم ریٹائیڑمنٹ کی صورت میں  ریٹائیڑڈ ملازم کو ملنی چاھئیے جبکے اس سیکشن ۱۹ میں صرف یہ گروپ انشورنس کی رقم اسکے قانونی لواحقین کو اسکی ملازمت کے دوران فوتگی کی صورت پر ھی  ملتی ھے اور ریٹائیڑمنٹ پر نھیں ملتی ۔ اور نہ ریٹائیڑمنٹ کے بعد اسکی فوتگی پر اسکے لواحقین کو۔عدالت ایسے کسے قوانین میں نہ تو کوئی ترمیم ، ایڈیشن کرسکتی اور نہ ختم کرسکتی ھے جو آئین سے متصادم نہ ھو ۔ وہ صرف تشریح کرسکتی ھے جس طرح  سپریم کوڑٹ نے مسعود بھٹی کیس ۲۰۱۲ایس سی ایم آر ۱۵۲ میں پی ٹی سی ایکٹ ۱۹۹۱ کی کلاز ۹ کی تشریح  کرکے بتایا تھا کے پی ٹی سی میں...

Article -104[ Regarding PTET adverse role]

آڑٹیکل ۔104 عنوان:۔ پی ٹی ای ٹی کے بوڑڈ آف ٹرسٹیز کی مکاریاں اور ھٹ دھرمی ۔ ۔ ۔ عدالت عُظمی کے ۱۲ جون ۲۰۱۵ کے احکامات پر اسکی روح کے مطابق عمل کرنے سے انکار ۔ ۔  ۔ اب اس ٹرسٹ کو تحلیل کرکے اسکا کام اے جی پی آر کے حوالے کرنا وقت کا اھم تقاضہ ھے عزیز پی ٹی ایل ساتھیو   اسلام وعلیکم  جیسا کے آپ سب جانتے ھیں کے پاکستان ٹیلیکام ایمپلائی ٹرسٹ کی تشکیل حکومت پاکستان نے یکم جنوری 1996 کو پی ٹی سی ایل کمپنی کی تشکیل کے ساتھ پی ٹی ( ری آرگنئزیشن) ایکٹ 1996 کے تحت ایک ساتھ کی تھی  ۔  حکومت کا اس ٹرسٹ کے بنانے کا مقصد صرف یہ تھا  کے ٹی اینڈ ٹی ڈیپاڑٹمنٹ حکومت پاکستان میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی جو کارپوریشن ( پی ٹی سی ) اور  کمپنی ( پی ٹی سی ایل ) میں ٹرانسفڑڈ ھوکر ریٹائیڑڈ ھوگئیے تھے  اور جو ھوتے رھیں گے انکوگورنمنٹ کی پنشن  اسکے مروجہ قانون کے مطابق دینا تھی ۔ ایسے تمام  ٹرانسفڑڈ ملازمین  بمعہ ٹی اینڈ میں ھی ریٹائیڑڈ ھوکر پنشن لینے والے ملازمین کی تعریف اسی ایکٹ 1996 کی کلاز 2 سب کلاز “t”  میں بطور “ٹیلی کمیونیک...